بھارت میں صرف پیدائشی مخنث ہی تیسری جنس تصور ہونگے، نئے قانون پر ٹرانس جینڈرز آگ بگولہ

شناخت کے لیے میڈیکل اسکریننگ یا سرٹیفیکیشن کا عمل تذلیل آمیز ہے ۔ مظاہرین

               
March 26, 2026 · بام دنیا
فوٹوبھارتی میڈیا

فوٹوبھارتی میڈیا

نئی دہلی: بھارت کی پارلیمان نے ٹرانس جینڈر افراد کی قانونی شناخت اور ان کے صنف کے انتخاب کے حق سے متعلق ایک انتہائی متنازع بل منظور کر لیا ہے۔ اس نئے قانون کے خلاف جہاں اپوزیشن جماعتیں سراپا احتجاج ہیں، وہی ایل جی بی ٹی کیو (LGBTQ) کمیونٹی نے بھی اسے اپنے بنیادی حقوق پر شبخون قرار دیتے ہوئے سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

نئے قانون کی سب سے زیادہ متنازع شق وہ ہے جس کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ اب صرف پیدائشی طور پر مخصوص جسمانی علامات رکھنے والے (انٹر سیکس) افراد کو ہی تیسری جنس کے طور پر تسلیم کیے جانے کا امکان ہے۔

اس تبدیلی پر ٹرانس جینڈر کمیونٹی “آگ بگولہ” ہے، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ یہ قانون ان کی ذاتی شناخت (Self-identification) کے حق کو ختم کر دے گا، جسے 2014 میں بھارتی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں تسلیم کیا تھا۔

بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ تبدیلیاں فلاحی مراعات تک رسائی کو آسان بنائیں گی۔استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف موجودہ قوانین کو مزید تقویت ملے گی۔

 حقوقِ انسانی کے علمبرداروں اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ بل غیر بائنری (Non-binary) اور جینڈر فلوئڈ افراد کو قانونی دائرے سے باہر کر سکتا ہے،شناخت کے لیے میڈیکل اسکریننگ یا سرٹیفیکیشن کا عمل تذلیل آمیز ہے۔