آبنائے ہرمز ایک شکست خوردہ قدیم ایرانی کمانڈرکے نام پر ہے ۔مفروضہ یاحقیقت؟

جنگ سے پہلے فارسی سالارنے مبارزت کی دعوت دی۔ اس مقابلے میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے ہرمز کو قتل کر دیا

               
March 27, 2026 · امت ادب, امت خاص

 

آبنائے ہرمزکے بارے میں ایک عام غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اسے اس فارسی کمانڈرکے نام پر رکھا گیا جسے حضرت خالد بن ولید نے معرکۂ ذات السلاسل میں شکست دی تھی۔ بظاہر یہ بات دلچسپ لگتی ہے، لیکن تاریخی اور جغرافیائی حقائق اس کی تائید نہیں کرتے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کا نام ایک قدیم تجارتی مرکز ’’جزیرہ ہرمز‘‘اور اس پر قائم ریاست کی نسبت سے پڑا، جو صدیوں تک خلیج کے اہم ترین تجارتی مراکز میں شمار ہوتی رہی۔ لفظ’’ہرمز‘‘خود قدیم فارسی ’’ہرمزد‘‘سے نکلا ہے، جو زرتشتی مذہب کے خدا اہورامزدا سے منسوب ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ نام مقامی لفظ ’’ہرمغ‘‘سے بھی مشتق ہو سکتا ہے جس کا مطلب کھجور ہے۔ اس طرح یہ نام ایک طویل لسانی اور تہذیبی پس منظر رکھتا ہے اور اس کا تعلق کسی ایک جنگی واقعے سے نہیں۔

 

دوسری طرف، جس ہرمز کا ذکر اسلامی تاریخ میں ملتا ہے، وہ ساسانی(قدیم ایرانی) فوج کا ایک کمانڈر تھا جس کا مقابلہ حضرت خالد بن ولیدؓ سے 12 ہجری میں ہوا۔ یہ جنگ خلافتِ حضرت ابو بکر صدیق کے دور میں عراق کی فتوحات کے آغاز پر لڑی گئی اور کمانڈرہرمز ایرانی سلطنت کی طرف سے عراق میں گورنرتھا۔ اس معرکے کو معرکۂ کاظمہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ موجودہ کویت کے علاقے کاظمہ میں پیش آیا، جو آبنائے ہرمز سے سینکڑوں میل دور واقع ہے۔

 

جنگ سے پہلے فارسی کمانڈر ہرمز نے مبارزت کی دعوت دی۔ اس مقابلے میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے ہرمز کو قتل کر دیا۔اپنے سپہ سالار کی موت کے بعد فارسی فوج کا نظم وضبط ٹوٹ گیا۔اس کے سپاہیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ زنجیروں میں باندھا گیا تھا تاکہ وہ میدان سے فرار نہ ہوں، لیکن یہی تدبیر ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔ جب مسلمان حملہ آور ہوئے تو فارسی فوج مؤثر طریقے سے حرکت نہ کر سکی اور انہیں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی وجہ سے اس جنگ کو ’’ذات السلاسل‘‘ یعنی زنجیروں والی جنگ کہا جاتا ہے۔

 

یہ معرکہ اسلامی فتوحاتِ عراق کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا اور اس کے بعد مذار اور ولجہ جیسے معرکوں میں بھی مسلمانوں کو کامیابیاں حاصل ہوئیں، جس سے ساسانی سلطنت کے زوال کی بنیاد پڑی۔

 

اہم بات یہ بھی ہے کہ ’’ذات السلاسل‘‘ کے نام سے اسلامی تاریخ میں دو الگ واقعات ملتے ہیں۔ ایک مہم 8 ہجری میں نبی کریم کے دور میں شمالی عرب قبائل کے خلاف بھیجی گئی تھی، اوروہ جس مقام پر لڑی گئی اس کانام سلسل یا سلاسل تھا۔

 

آبنائے ہرمز کا نام ایک قدیم جغرافیائی، لسانی اور تہذیبی پس منظر رکھتا ہے، معرکۂ ذات السلاسل ایک الگ تاریخی واقعہ ہے۔ ان دونوں کو آپس میں جوڑنا ایک عام لیکن غلط مفروضہ ہے۔