کروزمیزائلوں کاذخیرہ تیزی سے خرچ۔خارگ پرحملہ جنگ میں طوالت لائے گا،پینٹاگان پریشان

جزیرے پر قبضے سے دائرہ وسیع ۔ امریکی افواج کو مہلک جوابی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔عسکری ماہرین

               
March 27, 2026 · امت خاص

ٹوماہاک کروزمیزائل

 

 

 

امریکی دفاعی ذرائع اور میڈیارپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ نے جنگ کے پہلے چار ہفتوں کے دوران 850سے زائد کروز میزائل داغے ہیں۔ استعمال کی یہ غیر معمولی رفتار امریکی وزارت دفاع کے اندر ان ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی کے حوالے سے تشویش کا باعث بن گئی ہے۔اخبار”واشنگٹن پوسٹ” کے مطابق حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اس کثرت سے استعمال نے پینٹاگان کو استعمال کی شرح کی نگرانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس دوران یہ انتباہ بھی سامنے آئے ہیں کہ مشرق وسطی میں موجود ذخائر تشویشناک سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ اگر آپریشنز اسی رفتار سے جاری رہے تو گولہ بارود ختم ہونے کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اصل مسئلہ محدود پیداوار کا ہے کیونکہ سالانہ صرف چند سو میزائل تیار کیے جاتے ہیں جبکہ ایک میزائل کی تیاری میں لگ بھگ دو سال کا وقت لگ سکتا ہے اور اس کی لاگت تقریبا 3.6 ملین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔

 

ٹوماہاک میزائل جو 1991 کی خلیجی جنگ سے جنگی بحری جہازوں اور آبدوزوں سے داغے جا رہے ہیں طویل فاصلے تک مار کرنے والے نمایاں ترین ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ایک ہزار میل سے زائد فاصلے پر موجود اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور سیٹلائٹ کے ذریعے اپنا راستہ تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ حملوں کے نتائج کے بارے میں براہ راست معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

 

حکام کے تخمینوں کے مطابق امریکہ نے محض ایک ماہ کے دوران ان میزائلوں کے اپنے کل ذخیرے کا تقریبا ایک چوتھائی حصہ استعمال کر لیا ہے جس سے دیگر علاقوں بالخصوص بحر ہند اور بحر الکاہل میں کسی بھی ممکنہ تنازع کے لیے اس کی تیاری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ادھرامریکی انتظامیہ اس بات پر زور دے رہی ہے کہ آپریشنز جاری رکھنے کے لیے اس کے پاس کافی گولہ بارود موجود ہے تاہم دفاعی کمپنیوں کے ساتھ پیداوار بڑھانے اور مینوفیکچرنگ کی رفتار تیز کرنے کے لیے بات چیت شروع کر دی گئی ہے۔

 

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکی افواج ایرانی جزیرے خارگ پر تیزی سے قبضہ تو کر سکتی ہیں، لیکن یہ اقدام جنگ کے فوری خاتمے کے بجائے اسے مزید طویل کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ جزیرے پر قبضے سے جنگ کا دائرہ وسیع ہو جائے گا اور امریکی افواج کو ایرانی میزائلوں اور مہلک ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جن کی وڈیوز ایران پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔

 

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کو امید ہے کہ اس جزیرے پر قبضے سے ایران آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور ہو جائے گا، جس سے مذاکرات میں امریکہ کا پلہ بھاری ہو سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کا خدشہ ہے کہ تہران جوابا سمندر میں مزید بارودی سرنگیں بچھا سکتا ہے، جس سے بحری جہاز رانی مزید خطرناک ہو جائے گی۔

 

واضح رہے کہ ایرانی تیل کے تزویراتی مرکزجزیرہ خارگ پر قبضے کے لیے زمینی افواج کی تعیناتی پر غور کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اس جزیرے پر زمینی دستے بھیجنے کا جائزہ لے رہی ہے، رواں ماہ کے آخر تک بحریہ کے دو یونٹس بھی خطے میں پہنچ جائیں گے۔ پینٹاگان ہزاروں مزید فوجیوں کو فضائی راستے سے بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو زمینی حملے کی صورت میں مزید عسکری اختیارات حاصل ہوں۔

عرب میڈیاکا کہناہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارت کاری کو موقع دینے اور ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات کی مہلت 6اپریل تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے، تاہم خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت کشیدگی کے خدشے کی نشان دہی کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر سفارت کاری ناکام ہوتی ہے تو امریکی انتظامیہ ایران کے اندر اہداف کو کنٹرول کرنے کے لیے زمینی فوج کی تعیناتی کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔ ان اختیارات میں ایران سے افزودہ یورینیم نکالنا اور جزیرہ خارگ پر کنٹرول حاصل کرنا شامل ہے، جہاں سے ایران کی 90فی صد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہرمز کے قریب دیگر تزویراتی جزائر پر قبضے یا فضائی حملوں کے ذریعے ایرانی تیل کی تنصیبات کو مکمل تباہ کرنے کی تجاویز بھی زیرِ بحث ہیں۔ وائٹ ہائوس  حکام کا ماننا ہے کہ جزیرہ خارگ پر قبضے سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب معاشی طور پر مفلوج ہو جائے گی، جو جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

یادرہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملے 10 دن کے لیے روکنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پاکستان، مصر اور ترکیہ جیسے ثالثوں کے ذریعے جاری مذاکرات کو کامیاب بنایا جا سکے۔تاہم، پینٹاگان نے پہلی بار ایران کے خلاف کارروائیوں میں خودکار ڈرون کشتیوں اور خودکش کشتیوں کے استعمال کی بھی تصدیق کی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کو نشانہ بنانے والے آپریشنز کے دوران گشت کے لیے خودکار ڈرون کشتیاں تعینات کر دی ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ واشنگٹن نے کسی تنازع میں اس طرح کی کشتیوں کے استعمال کی تصدیق کی ہے۔