چار ہفتے میں آبنائے ہرمز کھولنا ممکن نہیں، امریکی حکام کا اعتراف
آبنائے ہرمز کا مسئلہ عالمی سطح پر تعاون کا تقاضا کرتا ہے اور اسے حل کرنے کے لیے امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے تسلیم کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں “مشن کی تکمیل” سے قبل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا وعدہ نہیں کر سکتے، جو دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد فراہم کرتا ہے۔
CNN سے بات کرنے والے ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس کے کئی اعلیٰ حکام نے اعتراف کیا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال حالت میں واپس لانے میں ہفتے، مہینے یا زیادہ وقت لگ سکتا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے عوامی طور پر اور اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اس معاملے میں ذمہ داری ادا کریں۔
ٹرمپ نے اوول آفس میں کہا کہ جنگ دو یا تین ہفتوں میں ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد امریکہ میں گیس کی قیمتیں تیزی سے کم ہوں گی۔ انہوں نے اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بحری اثاثے آبنائے کی حفاظت کے لیے بھیجیں، کیونکہ امریکہ اب ان کے لیے عملی طور پر موجود نہیں ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے بتایا کہ انتظامیہ نے تیل کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں روسی تیل پر پابندیاں ہٹانا، آبنائے میں ٹینکروں کے لیے انشورنس فراہم کرنا اور 400 ملین بیرل تیل کی ریلیز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج تجارتی بحری جہازوں کو ایران کی ممکنہ دہشت گرد کارروائی سے محفوظ بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی عوامی بیان بازی نہ صرف ان کے حقیقی جذبات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ دیگر ممالک کو اس مسئلے میں شریک کرنے کی ایک حکمت عملی بھی ہے۔ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے تسلیم کیا کہ آبنائے ہرمز کا مسئلہ عالمی سطح پر تعاون کا تقاضا کرتا ہے اور اسے حل کرنے کے لیے امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔