جنگ کے باوجود ایرانی ریال کی قدر میں اضافہ،اہم وجوہات سامنے آ گئیں
جنگ سے پہلے ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت 2,500 پاکستانی روپے تھی،لیکن اب ایک کروڑ ایرانی ریال سے تقریباً 10 ہزار پاکستانی روپے حاصل ہو رہے ہیں
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باوجود ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،
جس کے پیچھے سرمایہ کاروں کی خریداری اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گذرنے والے جہازوں سے ٹول ٹیکس کی وصولی اہم سبب ہیں۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق جنگ سے پہلے ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت 2,500 پاکستانی روپے تھی،
لیکن اب ایک کروڑ ایرانی ریال سے تقریباً 10 ہزار پاکستانی روپے حاصل ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساتھ تنازع جلد ختم ہونے اور پابندیوں میں نرمی کی توقعات کی وجہ سے سرمایہ کار بڑی مقدار میں ایرانی کرنسی خرید رہے ہیں
، جس سے ریال کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔
ملک بوستان نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے 20 لاکھ ڈالر کا ٹول ٹیکس وصول کرنا بھی ریال کی مضبوطی کا سبب بنا ہے۔
ایران نے جہازوں کو یہ ٹول ایرانی ریال اور چینی یوآن میں ادا کرنے کا کہا ہے، جس کے مثبت اثرات ریال کی قدر پر مرتب ہوئے ہیں۔
یہ صورتحال ایرانی کرنسی کی مضبوطی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاس ہے، جبکہ معاشی تجزیہ کار اس میں مزید اضافہ کی توقع بھی ظاہر کر رہے ہیں۔