ایران امریکہ جنگ بندی کیلئے پاکستان کا منصوبہ تیار- فریقین کو موصول ہونے کی تصدیق

آرمی چیف کی امریکی نائب صدر اور عراقی وزیر خارجہ سے رات بھر گفتگو، اسلام آباد اکارڈ کے تحت آبنائے ہرمز کو مکمل کھلنے کا امکان

               
April 6, 2026 · بام دنیا

پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے پیش کیا گیا منصوبہ مزید تفصیلات کے ساتھ سامنے آ گیا ہے، جس کے مطابق یہ فریم ورک کسی بھی وقت نافذ ہو سکتا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوشش جاری ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان نے ایک دو مرحلوں پر مشتمل فریم ورک امریکا اور ایران کو فراہم کیا ہے، جس میں پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی اور دوسرے مرحلے میں ایک جامع معاہدہ شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فریم ورک پیر کے روز ہی مؤثر ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے تمام نکات پر فوری اتفاق ضروری قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی معاہدہ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) کی شکل میں الیکٹرانک طریقے سے طے کیا جائے گا، جس میں پاکستان ثالثی کے واحد رابطہ چینل کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔

منصوبے کے تحت جنگ بندی کے فوری بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، جبکہ 15 سے 20 دن کے اندر ایک وسیع تر معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ مجوزہ معاہدے کو غیر رسمی طور پر “اسلام آباد معاہدہ” کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت حتمی مذاکرات اسلام آباد میں متوقع ہیں۔

اس سے قبل رپورٹس میں 45 روزہ جنگ بندی کی تجویز بھی سامنے آئی تھی، جسے ایک دو مرحلوں کے بڑے معاہدے کا حصہ قرار دیا گیا تھا جو مستقل امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پوری رات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے کیے۔

مجوزہ حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہو سکتی ہے۔

تاہم ایرانی حکام نے تاحال کسی حتمی عزم کا اظہار نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق ایران مستقل جنگ بندی اور سکیورٹی ضمانتوں کا خواہاں ہے، جبکہ تہران نے عارضی جنگ بندی یا دباؤ کے تحت فیصلے کرنے سے انکار کیا ہے۔

ادھر امریکا اور ایران کی جانب سے اس تازہ فریم ورک پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

یہ سفارتی کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی میں شدید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں جنگ بندی پر زور دیتے رہے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ اگر جلد معاہدہ نہ ہوا تو نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کا سلسلہ بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس سربراہ کو امریکی-اسرائیلی حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے، جبکہ قم اور بہارستان میں رہائشی علاقوں پر حملوں میں متعدد شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

اس کے جواب میں ایران نے تل ابیب اور وسطی اسرائیل پر میزائل حملے کیے، جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ حیفا میں ایک عمارت پر حملے کے بعد ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش یا کھلنے کا معاملہ عالمی توانائی منڈیوں کے لیے انتہائی اہم ہے، اور کسی بھی پیش رفت پر دنیا بھر کے تاجر اور حکومتیں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔