جنگ بندی اثرات،سونا فی تولہ5 لاکھ 4 ہزار 162 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
سرمایہ کار سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس کی وجہ عالمی سطح پر موجود غیر یقینی صورتحال ہے۔
اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان دو طرفہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ملکی صرافہ مارکیٹ میں فی تولہ سونا پہلی بار 5 لاکھ روپے سے تجاوز کر کے 5 لاکھ 4 ہزار 162 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت بھی 13 ہزار 460 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 32 ہزار 237 روپے ہو گئی ہے۔ صرافہ ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بتایا کہ یہ اضافہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں نمایاں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 157 ڈالرز اضافے کے بعد 4814 ڈالرز تک جا پہنچی ہے، جس کے اثرات مقامی مارکیٹ پر فوری طور پر ظاہر ہوئے ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس کی وجہ عالمی سطح پر موجود غیر یقینی صورتحال ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک دن قبل ہی سونے کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی تھی، لیکن جنگ بندی کے اعلان کے بعد مارکیٹ کا رخ دوبارہ بلند سطح کی جانب موڑ گیا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر پورا نہ اترا یا کشیدگی مکمل طور پر ختم نہ ہوئی تو سونے کی قیمت مزید بڑھ سکتی ہے۔ اس پیش رفت سے عام شہری کے لیے عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات ان کی جیب پر براہِ راست پڑ سکتے ہیں۔
سونے کی قیمت میں یہ اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی کشیدگی کے اثرات مقامی مارکیٹ پر فوری طور پر اثر انداز ہوتے ہیں اور سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے لیے سونے کی جانب رجوع کرتے ہیں۔