ایران کے ساتھ منجمد اثاثوں کے بدلے حملے روکنے کی بات غلط ہے ، قطری وزارتِ خارجہ
ہم اپنے ملک کے دفاع کے بارے میں فکر مند ہیں اور ہر حملے کے خلاف اپنا دفاع کریں گے۔پریس کانفرنس
فائل فوٹو
دوحہ:قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اور قطر کے درمیان ایران کے منجمد اثاثوں پر سے پابندی ہٹائے جانے کے بدلے حملے روکنے سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور اس حوالے سے سامنے آنے والی خبریں بے بنیاد اور غلط ہیں۔
دوحہ میں پریس کانفرنس کے دوران وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ ’ہم نے پہلے دن سے واضح کیا ہے کہ خطے میں ہمارے کسی بھی ہمسایہ ملک پر حملہ، قطر کی خودمختاری پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ لہٰذا اس خطرے سے نمٹنے کا کوئی بھی حل علاقائی ہونا چاہیے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کے ساتھ کوئی مشترکہ لائحہ عمل نہیں رہا۔ ہمارے ممالک پر حملے جاری رہے، حتیٰ کہ جنگ بندی سے ایک رات قبل بھی اور صرف جنگ بندی شروع ہونے پر یہ حملے رکے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اس دوران کسی قسم کے مالی معاملے سے متعلق بات چیت بالکل نہیں ہوئی۔ میں یہ بات پہلے بھی سرکاری طور پر کہہ چکا ہوں۔ ہم اپنے ملک کے دفاع کے بارے میں فکر مند ہیں اور ہر حملے کے خلاف اپنا دفاع کریں گے۔ ان حملوں کو روکنے کے لیے کسی بھی مالی معاہدے کی بات سراسر غلط ہے