فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، تہران میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں شروع

دورے کا بنیادی مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے اہم بات چیت کرنا ہے، الجزیرہ ٹی وی

               
April 15, 2026 · اہم خبریں, قومی
فو ٹو بشکریہ سوشل میڈیا

فو ٹو بشکریہ سوشل میڈیا

تہران/اسلام آباد : علاقائی سفارت کاری اور عالمی امن کی کوششوں میں تیزی لاتے ہوئے، پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ایران پہنچ گئے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں آنے والے اعلیٰ سطح کے پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اس اہم دورے کا بنیادی مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے اہم بات چیت کرنا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی وفد اپنے ہمراہ واشنگٹن کی جانب سے ایک ’نیا پیغام‘ لایا ہے، جس کا مقصد ممکنہ طور پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ رابطوں کو بحال کرنا یا کسی تعطل کو توڑنا ہے۔

سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس ملاقات کے دوران ’مذاکرات کے دوسرے دور‘ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں سیکیورٹی چیلنجز اور عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی کھینچ تانی عروج پر ہے۔ پاکستان، جو کہ روایتی طور پر خطے میں توازن برقرار رکھنے اور ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے، اس بار بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا نظر آ رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی وفد ایرانی قیادت کے ساتھ دفاعی تعاون اور سرحدی انتظام کے علاوہ ان حساس سفارتی پیغامات پر بھی بات کرے گا جو خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر سمجھے جا رہے ہیں۔

ایرانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آرمی چیف کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تہران و واشنگٹن کے درمیان سفارتی چینلز کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

پاکستانی وفد ایرانی عسکری اور سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کرے گا جس میں سیکیورٹی امور کے ساتھ ساتھ تزویراتی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان پسِ پردہ سفارت کاری اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سہولت کار کے طور پر کردار ادا کرنے کی توقع ہے۔