جنگ بندی کے دوران ایران نے بمباری سے دفن میزائل لانچر نکالنا شروع کردئیے
خمین اورتبریزکے زیرزمین اڈوں پر سرگرمیوں کی سیٹلائٹ تصاویر حاصل
سیٹلائٹ تصاویرسے پتاچلاہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ سیز فائر کے دوران اپنے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو کھود رہا ہے۔بھاری مشینری کوبندسرنگوں سے ملبہ ہٹاتے اور اٹھا کر قریبی ٹرکوں میں لوڈ کرتے دیکھاگیاہے۔ان داخلی راستوں کو پہلے امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے کیے گئے حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ان حملوں کا مقصدباہرنکلنے کے راستوں کو بلاک کرکےلانچرز کو استعمال میں آنے، فائر کرنے یا دوبارہ لوڈ کرنے سے روکنا تھا۔تاہم، امریکی انٹیلی جنس کے تخمینوں کے مطابق ایران کے تقریباً آدھے میزائل لانچرز اب بھی کارگرحالت میں ہیں۔
برطانوی اخبارکے مطابق ،10 اپریل کو لی گئی ایک سیٹلائٹ تصویر میں خمین کے قریب ایک میزائل اڈے پر ایک فرنٹ اینڈ لوڈر کو سرنگ کے داخلے کو سیل کرنے والے ملبے کے ڈھیر پر کام کرتے دکھایا گیا ہے، قریب ہی کئی ڈمپر ٹرک انتظار کر رہے ہیں۔اسی دن لی گئی دوسری تصویر میں بھی تبریز کے ایک مقام پر تعمیراتی سامان کام کرتے ہوئے دکھائی دیا۔
ان میں سے بہت سے سسٹم زیرِ زمین نیٹ ورک کے اندر دفن سمجھے جاتے ہیں، جو عارضی طور پر ناقابل استعمال بنا دیے گئے ہیں نہ کہ مکمل طور پر تباہ۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی ان سائٹس کو دوبارہ کھولنے کی کوششیں دونوں قابلِ پیش گوئی ہیں اور اس کی فوجی ڈاکٹرائن کا لازمی حصہ ہیں۔
اس ماہ کے شروع میں پینٹاگون نے کہا تھا کہ جنگ کے پہلے پانچ ہفتوں میں امریکہ نے ایران میں 11ہزارہداف پر حملے کیے، اسرائیل نے 7 مارچ تک ایران کے تین چوتھائی میزائل لانچرز کو تباہ کر دیا تھا۔
پچھلے ہفتے، امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کہا کہ ان حملوں نے ایران کے دفاعی صنعتی بنیاد کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے13 ہزارسے زیادہ بم گرائے، میزائل اور ڈرون سٹوریج سائٹس، بحری اثاثوں اور ملک کی دفاعی صنعت کونشانہ بنایاگیا تاکہ ایران اپنی سرحدوں سے باہر حملے کرنے کی طاقت کو دوبارہ بحال نہ کر سکے۔
امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگسٹھ نے صحافیوں سے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام فعال طور پر تباہ ہو چکا ہے، لانچرز اور میزائل ختم، تباہ اور تقریباً مکمل طور پر غیر موثر ہو چکے ہیں۔لیکن کچھ امریکی عہدیداروں نے پہلے ہی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ایران لڑائی میں وقفے کا استعمال کرکے اپنے کچھ میزائل ہتھیاروں کوبحال کر لے گا۔انہوں نے اس امرسے بھی خبردار کیا ہے کہ تہران روس سے اسی طرح کے سسٹم حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے تاکہ اپنے پڑوسیوں کے خلاف صلاحیتوں کو مضبوط بنائے۔
مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ میں سابق سی آئی اے تجزیہ کار کینتھ پولاک کے مطابق،ایرانیوں نے اپنی فورسز کو تیزی سے دوبارہ فعال کرنے کی قابلِ ذکر صلاحیت دکھائی ہے،وہ اسرائیلیوں کے بعدمشرق وسطیٰ کی زیادہ تر فوجوں سے کہیں زیادہ طاقت ورحریف ہیں۔
جیمز مارٹن سینٹر فار نان پرولیفریشن سٹڈیز کے سیم لیئر نے سی این این کو بتایاکہ سیز فائرکا مطلب ہے آپ کو قبول کرنا پڑے گا کہ آپ کا مخالف اپنی اس فوجی صلاحیت کا کچھ حصہ بحال کر لے گا جسے آپ نے بہت وقت، کوشش اور پیسہ خرچ کرکے تباہ کیا تھا۔ان’’میزائل شہروں‘‘کو اسی خیال کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا تھا کہ وہ ابتدائی حملوں کی لہر کو سہ لیں، فعالیت بحال کریں اور آپریشنز دوبارہ شروع کر دیں۔
لیئرکے مطابق یہ میزائل شہر کے مجموعی آپریشنل تصور کے عین مطابق ہے، جو یہ تھا کہ آپ پہلا حملہ برداشت کرجائیں،ہتھیاروں کوباہر نکال کردوبارہ لانچ کریں۔