عالمی امن کے لیے پاکستان کا کلیدی کردار ہے،سردار ایاز صادق
بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ ہے، اسپیکر ایاز صادق کا آئی پی یو اسمبلی سے خطاب
فائل فوٹو
استنبول: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے استنبول میں منعقدہ بین الاقوامی پارلیمانی یونین کی 152ویں اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عالمی و علاقائی تنازعات کے حل، غزہ میں جاری انسانی المیے اور جنوبی ایشیا کی صورتحال پر پاکستان کا موقف دوٹوک انداز میں پیش کیا ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے ترکیہ کی جانب سے پرتپاک میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں جاری تنازعات کے فوری اور پائیدار حل کا خواہاں ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی فوری جنگ بندی کی اپیل پر فریقین نے مثبت ردعمل دیا ہے، جس پر وہ ان کے مشکور ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی فعال ثالثی کے نتیجے میں فریقین کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔پاکستان مستقبل میں بھی فریقین کے درمیان رابطے اور مکالمے کے لیے بطور سہولت کار اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔امید ہے کہ تمام فریقین جنگ بندی کے عہد کی پاسداری کریں گے۔
مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے اسپیکر نے اسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ قرار دیا۔ انہوں نے بھارت کے حالیہ اقدامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (IWT) کو معطل کرنے کی کوشش ایک غیر قانونی اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ قدم ہے، جس سے خطے کے استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
غزہ میں جاری جارحیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سردار ایاز صادق نے بتایا کہ اب تک 71,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ایک خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ اور پاکستان سمیت عرب و اسلامی ممالک کی حمایت سے غزہ امن منصوبے پر پیش رفت ہوئی ہے، جو کہ ایک مثبت قدم ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے افغانستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے حالات نے پورے خطے کو شدید عدم استحکام سے دوچار کیا ہے۔ پاکستان پڑوسی ملک میں مکمل امن اور استحکام کا خواہاں ہے تاکہ خطے میں معاشی اور سماجی ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے اور تنازعات کے منصفانہ حل کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔