جنگ نہیں چاہتے، دفاع کا حق استعمال کر رہے ہیں،ایران
دشمن نے جنگ کے دوران بنیادی ڈھانچے، تعلیمی اداروں اور طبی سہولیات کو نشانہ بنایا،
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کسی بھی ملک کے خلاف حملے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ صرف اپنے قانونی حقِ دفاع کو استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا بنیادی مؤقف خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کا قیام ہے، اور ملک کسی بھی صورت کشیدگی یا جنگ میں اضافہ نہیں چاہتا۔ ان کے مطابق ایران نے نہ کسی جنگ کا آغاز کیا اور نہ ہی کسی تنازع کو بھڑکایا، بلکہ موجودہ حالات میں صرف دفاعی حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے۔
ایرانی صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایرانی عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرے یا ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں فیصلے مسلط کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے مخالفین اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے بقول دشمن نے جنگ کے دوران بنیادی ڈھانچے، تعلیمی اداروں اور طبی سہولیات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران کی تہذیب کو نقصان پہنچانے کے بیانات مخالفین کے عزائم کو ظاہر کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے لیکن ساتھ ہی سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، اور ایران عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو دفاعی انداز میں پیش کرتے ہوئے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔