امریکہ کا ایرانی بحری جہاز پر قبضہ،تیل کی قیمتیں تیزی سے بلند
توسکا نامی بحری جہازکو آبنائے ہرمز کے قریب نشانہ بنایا گیا،ایران کا جواب دینے کا اعلان
ایرانی جہاز پر امریکی حملے کا منظر۔۔۔اسکرین گریب
امریکہ نے اسلام آباد مذاکرات سے قبل آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے ایک بحری جہاز پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کرلیا۔ اس واقعے نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں پیر کے روز ایشیا میں تجارت کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
عالمی برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 5.27 فیصد اضافے کے ساتھ 95.14 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 6.21 فیصد اضافے کے بعد 89.06 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل دونوں بینچ مارکس میں 9 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق اتوار کو امریکی بحریہ نے ایک ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز کو اس وقت روک کر قبضے میں لے لیا جب وہ مبینہ طور پر امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ جہاز مکمل تحویل میں ہے اور اس میں موجود سامان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اس اقدام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دو روزہ جنگ بندی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، جو منگل تک برقرار رہنے کی توقع تھی۔
توسکا نامی یہ بحری جہاز آبنائے ہرمز کے قریب خلیج عمان میں تھا۔
ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق یہ جہاز چین سے ایران کے شہر بندر عباس کی جانب جا رہا تھا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ترجمان نے خبردار کیا کہ امریکی فوج کی اس کارروائی کا جلد جواب دیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے امریکی بحری جہازوں پر ڈرون حملے بھی کیے ہیں۔
ایران نے اس پیش رفت کے بعد امریکہ کے ساتھ مجوزہ دوسرے دور کے مذاکرات میں شرکت سے بھی انکار کر دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ جاری ناکہ بندی، دھمکی آمیز بیانات اور واشنگٹن کے بدلتے مؤقف کے باعث مذاکرات ممکن نہیں۔
ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کی تیل برآمدات کو محدود کرتے ہوئے دوسروں کے لیے مکمل سیکیورٹی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ ان کے بقول یا تو سب کے لیے آزاد تیل منڈی ہوگی یا پھر سب کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت پر کبھی پابندی لگائی اور کبھی نرم رویہ اختیار کیا۔
یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ سنبھالتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈالتی ہے۔