یوکرینی فوج کی روبوٹکس یونٹ جس نےسائنس فکشن کو حقیقت میں بدل دیا

ستمبر 2022 میں انکشاف ہوا تھاکہ ایران روسی فوج کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے

               
April 20, 2026 · امت خاص

تصویر: سوشل میڈیا

 

جنگ کی تاریخ جتنی پرانی ہے، یہ منظر بھی اتنا ہی پرانا ہے۔ دو فوجی ہاتھ اوپر اٹھائے، ہتھیار ڈالتے ہوئے اور دوسرے فریق کے دیے گئے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔مگر اس بار معاملہ مختلف تھا۔ ان دو روسی فوجیوں کے سامنے کوئی انسانی قیدی بنانے والانہیں تھا۔ بلکہ وہ یوکرینی زمینی روبوٹس اور ڈرونز کے سامنے ہتھیار ڈال رہے تھے، جنہیں ایک پائلٹ نے محفوظ مقام سے، محاذ سے کئی میل دور بیٹھ کر کنٹرول کیا۔

 

یہ انکشاف گذشتہ دنوں یوکرینی صدرصدر وولودیمیر زیلنسکی نے کیا تھا۔ زیلنسکی کے مطابق یوکرینی فوج نے صرف زمینی روبوٹک سسٹم اور بغیر پائلٹ والے طیاروں (ڈرونز) کا استعمال کرتے ہوئے ایک روسی پوزیشن پر قبضہ کر لیا۔ جنگ کی تاریخ میں پہلی بار ایک دشمن کی پوزیشن کو مکمل طور پر بغیر پائلٹ والے پلیٹ فارمز یعنی زمینی سسٹم اور ڈرونز کے ذریعے لیا گیا۔ قابض فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے اور یہ آپریشن بغیر کسی پیدل فوج (انفنٹری) کے اور ہماری طرف سے کوئی نقصان اٹھائے بغیر مکمل کیا گیا۔

 

زیلنسکی نے کہا کہ خارکِو علاقے میں ہونے والا حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یوکرینی فوج اب صرف خودکار ہتھیاروں سے روسی پوزیشنوں پر قبضہ کر سکتی ہے۔

 

امریکی اخبار نیویارک ٹائمزنے ایک وڈیوکے حوالے سے اس واقعہ کی تفصیل یوں بتائی ہے۔

روبوٹس نے مشرقی یوکرین کے ایک وادی میں لڑائی کے لیے حملہ کیا۔ وہ گھاس پر سے گزرتے ہوئے روسی پوزیشن کی طرف بڑھ رہے تھے۔ بنیادی طور پر یہ چھوٹی سی سبز گاڑیاں تھیں، جنہیں دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے آپ کسی باغبانی کی دکان سے مٹی کے تھیلے منتقل کرنے کے لیے خریدتے ہیں۔ لیکن ہر روبوٹ میں 66 پاؤنڈ (تقریباً 30 کلوگرام) دھماکہ خیز مواد نصب تھا۔جیسے ہی یہ ریموٹ کنٹرولڈ گاڑیاں دشمن فوجیوں کے قریب پہنچیں، ایک ہوائی ڈرون نے آ کر بم گرایا تاکہ راستہ صاف ہو سکے۔ ایک روبوٹ تیزی سے آگے بڑھا اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا، باقی روبوٹ پیچھے رکے رہے اور پوزیشن کی نگرانی کرتے رہے۔خندق کے اوپر ایک کارڈ بورڈ کا ٹکڑا نظر آیا جس پر لکھا تھا:ہم ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں۔“ اس کے بعد دو روسی فوجی باہر نکلے اور یوکرینی لائن کی طرف چلے گئے تاکہ جنگی قیدی بنائے جا سکیں۔

 

یہ جنگ کا مستقبل ہے اور یہ سب شروع ہوچکا ہے۔اس پوزیشن پر ایک بھی گولی چلائے بغیر قبضہ کر لیا گیا، یوکرین کی اس یونٹ کے کمانڈرزینکیووچ نےبتایا۔وہ ایک سابق انفنٹری مین اور اسالٹ گروپس کے کمانڈرہیں۔

 

ستمبر 2022 میں انکشاف ہوا تھاکہ ایران روسی فوج کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے۔ اس سے کچھ ہی عرصہ قبل جیرینیم-2 (شاہد-136) نامی ڈرونز کی ابتدائی تصاویر یوکرین کے دارالحکومت کئیو کی فضاؤں میں منڈلاتے ہوئے منظرِ عام پر آ چکی تھیں،لیکن یوکرین اسی حکمت عملی کو بالادستی کا ذریعہ بنانے میں کامیاب رہا۔

 

زنکیووچ یوکرین کی تیسری سییپریٹ اسالٹ بریگیڈ کے “NC13” یونٹ میں خدمات انجام دیتے ہیں، جو زمینی روبوٹک اسٹرائیک سسٹم سنبھالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ موسم گرما میں انجام دیا گیا یہ آپریشن تاریخ کا پہلا موقع تھا جب ایک دشمن کی پوزیشن پر روبوٹس اور ڈرونز نے حملہ کیا اور بغیر کسی انفنٹری (پیدل فوج) کے قیدی بنائے گئے۔ اس کے بعد سے روبوٹس کو انسانی فوجیوں کی جگہ استعمال کرنے والے مشنز اس یونٹ کا روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔

 

یوکرین کے محاذ پر آسمانوں میں کئی سال سے ڈرونز کی بھرمارہے، جو پیدل فوج کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ اسی وجہ سے یوکرینیوں نے زمینی ڈرونز ،پہیوں یا ٹریک والے ریموٹ کنٹرولڈ گاڑیوںور زمینی روبوٹک سسٹم کے تجربات شروع کر دیے۔ ابتدا میں انہیں زیادہ تر زخمیوں کو نکالنے اور فوجیوں کو سامان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، مگر اب یہ حملوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

 

زمینی ڈرونز بڑی فوجی گاڑیوں کے مقابلے میں دیکھنے اور روکنے میں بہت مشکل ہوتے ہیں۔ ہوائی ڈرونز کے مقابلے میں یہ کسی بھی موسم میں کام کر سکتے ہیں اور بہت بڑا پے لوڈ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ زیادہ پائیدار بھی ہیں اور ان کی بیٹری لائف بھی لمبی ہوتی ہے۔

 

گزشتہ سال کے آخر میں، تیسری سیپریٹ اسالٹ بریگیڈ کی مدریونٹ (تھرڈ آرمي کور) نے بتایا کہ ایک مشین گن سے لیس زمینی روبوٹ نے 45 دن تک روسی پیش قدمی کو روکے رکھا۔ اس دوران اسے صرف ہلکی مرمت اور ہر دو دن بعد بیٹری ری چارج کی ضرورت پڑی۔

 

زنکووچ کے مطابق ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ کبھی ہمارے پاس زیادہ فوجی نہیں ہوں گے اور ہم دشمن پر تعداد کے لحاظ سے برتری حاصل نہیں کر سکیں گے،لہٰذا ہمیں ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ برتری حاصل کرنی ہوگی۔

 

یوکرین کا موجودہ ہدف ہے کہ اس سال انفنٹری (پیدل فوج) کا ایک تہائی حصہ ڈرونز اور روبوٹس سے تبدیل کر دیا جائے۔

 

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہےکہ صرف پچھلے تین ماہ میں ڈرونز اور روبوٹس نے22ہزارسے زیادہ مشنز انجام دیے ہیں۔ زیلنسکی کے مطابق جب روبوٹ نے سب سے خطرناک علاقوں میں آپریشن کیا تو22ہزارسے زیادہ بار انسانی جانیں بچائی گئیں۔

 

برطانوی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے لینڈ وارفیئرماہر رابرٹ ٹولاسٹ نے کہا کہ یوکرین میں ہونے والی پیش رفت اس بات پر شدید بحث کو ہوا دے گی کہ آیا یہ روبوٹس جنگ کا مستقبل ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ زمینی ڈرونز کے لیے علاقے پر قبضہ برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، جیسے بغیر انفنٹری کے ٹینک استعمال کرنا۔ مگر یہ اب باقاعدگی سے فوجیوں کی جانیں بچا رہے ہیں خمیوں کو نکالنے، خطرناک سامان کی سپلائی، کانوں کی صفائی اور اب لڑائی میں بھی۔یہ اس جنگ میں بہت اہم ہے جہاں ہوائی ڈرونز کی نگرانی نے محاذ کے قریب حرکت کو تقریباً مہلک بنا دیا ہے۔ اگرچہ نیٹو یوکرین کی طرح لڑے گی یا نہیں، مگر یہ سسٹم دوسری فوجوں میں بھی بہت سے استعمال پائیں گے۔

 

چار سال سے زیادہ کی جنگ نے یوکرین کو میدان جنگ کے ڈرونز اور روبوٹک سسٹم کا عالمی رہنما بنا دیا ہے۔ جنوری میں میخائلو فیدروف کو یوکرین کا نیا وزیر دفاع بنائے جانے کے بعد اس شعبے میں ترقی مزید تیز ہو گئی ہے۔

 

فیدوروف اس سے پہلے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے وزیر تھے اور یوکرین کے کامیاب ڈرون وارفیئروجیکٹ کی نگرانی کر چکے ہیں۔ دفاع کا قلمدان سنبھالتے ہی انہوں نے ایک وار پلان“ متعارف کرایا، جو یہ بتاتا ہے کہ یوکرین روس کو امن پر مجبور کرنے کا منصوبہ کیسے بنانا چاہتا ہے۔اس حکمت عملی کا زیادہ تر زور ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پر ہے۔ سینکڑوں کمپنیاں حکومت کی زیر قیادت درجنوں ڈرون ڈویلپمنٹ اور پروڈکشن پروگراموں میں حصہ لے رہی ہیں۔

 

فیدوروف نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں زمینی روبوٹک سسٹم بالآخر محاذ کی پوری لاجسٹکس (سامان کی ترسیل) سنبھال لیں۔وار پلان دفاع اور حملہ دونوں پر توجہ دیتا ہے۔ ہدف یہ ہے کہ ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہر ہوائی خطرے کو حقیقی وقت میں پہچانا جائے، میزائلوں اور ڈرونز کا کم از کم 95 فیصد انٹرسیپٹ کیا جائے، اور محاذ کے ساتھ 15 سے 20 کلومیٹر گہرا کل زون“ (kill zone) بنایا جائے جہاں ڈرونز اور روبوٹس مسلسل کام کرتے رہیں۔

 

یوکرینی وزارت دفاع نے گزشتہ ہفتے بتایا تھاکہ اس نئےپروگرام کے تحت ابھی1ہزارکارکن کام کر رہی ہیں۔

 

زمینی روبوٹکس کے کمانڈر زنکیویچ نے کہا کہ پیمانہ بڑھانے کی صلاحیت ہی کلیدی ہے۔ روس اس دوڑ میں پیچھے ہے، مگر وہ بھی ترقی کر رہا ہے۔ میدان جنگ میں فیصلہ کن عنصر یہ نہیں کہ کس نے ٹیکنالوجی ایجاد کی اور اسے کیسے استعمال کیا، بلکہ یہ ہے کہ کس نے اسے طویل مدت تک بڑے پیمانے پر نافذ کیا۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تازہ ترین تکنیکی پیش رفت نے یوکرین کو میدان جنگ میں ڈرون کی واضح برتری دے دی ہے۔ امریکی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار نے حال ہی میں کہا کہ یہ ڈرون برتری روس کی پیش قدمی روکنے اور یوکرین کے حالیہ جوابی حملوں میں ممکنہ طور پر اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

 

„اگرچہ کوئی بھی فریق فیصلہ کن برتری حاصل نہیں کر سکا، مگر یوکرین کی درمیانی رینج کی اسٹرائیک مہم نے کیوی کو برتری حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔ اب یوکرین کے لیے چیلنج یہ ہے کہ جب روس جواب دے تو ایک قدم آگے رہے۔

 

زمینی گاڑیاں چھوٹے کواڈکاپٹر ڈرونز سے سست اور زیادہ نظر آنے والی ہوتی ہیں، اس لیے وہ دشمن کی فائرنگ کا زیادہ شکار ہو سکتی ہیں۔ زیادہ تر 24 گھنٹے چلنے کے بعد ان کی بیٹری ختم ہو جاتی ہے یا وہ پکڑے جا کر تباہ ہو جاتے ہیں۔ خندق صاف کرنے والے نایاب آپریشنز میں روبوٹس کے بعد فوجیوں کو زمین پر قبضہ برقرار رکھنے یا بیٹریاں تبدیل کرنے کے لیے آگے آنا پڑتا ہے۔تاہم زمینی روبوٹس ہوائی ڈرونز سے کہیں زیادہ بڑا دھماکہ خیز مواد اٹھا سکتے ہیں اور گنز یا راکٹس چلانے کے لیے زیادہ مستحکم پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔

 

ڈرون کی بنیاد پر برتری جنگ کا فیصلہ نہیں کر سکتی، مگر یوکرین کی ڈرون وارفیئرمیں واضح برتری اب یورپ سے باہر بھی توجہ حاصل کر رہی ہے۔مشرق وسطیٰ میں ایک مثال دیکھی جا سکتی ہے، جہاں کئی ممالک نے اپنی روایتی فوجی صلاحیتوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے تھے، مگر ایران کے تنازع شروع ہونے کے بعد انہیں 50 ہزار ڈالر کا ڈرون گرانے کے لیے 40 لاکھ ڈالر کا میزائل استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔

 

یوکرین کی وزارت دفاع کے مطابق اس کی مسلح افواج نے مارچ میں صرف زمینی روبوٹک سسٹم استعمال کرتے ہوئے9ہزارسے زیادہ مشنز انجام دیے۔ نومبر 2025 میں ان سسٹمز کو تقریباً 900آپریشنزمیں استعمال کیا گیا تھا، جنوری 2026 میں یہ تعداد7ہزارسے تجاوز کر گئی تھی۔

 

صدر زیلنسکی خود مشرق وسطیٰ کا دورہ کر چکے ہیں۔ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے بعد ترکی اور شام کا سفر کیا۔ وہ محنت سے حاصل کردہ یوکرین کی مہارت شیئر کرنے کی پیشکش کر رہے ہیں، بدلے میں حمایت چاہتے ہیں۔

 

یوکرینی روبوٹس یونٹ کے کمانڈرزنکووچ کے مطابق، پچھلے چار سال میں حیران کن تکنیکی ترقی ہوئی ہے۔ 2022 میں یہ سب سائنس فکشن تھامگر اب حقیقت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسانی جان بیش قیمت ہے، اور روبوٹس خون نہیں بہاتے۔ اس بنیاد پر میرا موقف یہ ہے کہ زمینی روبوٹک سسٹم کو بہت تیزی سے، بہت بڑے پیمانے پر تیار کیا جائے اور میدان جنگ پر ایک عالمی نظام کے طور پر نافذ کیا جائے۔