ایران امریکہ مذاکرات بحال کرانے کیلئے پاکستان کی سرتوڑ سفارتی کوششیں
وزیر خارجہ نے مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے مسلسل رابطے شروع کر دیے ہیں
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان نے سفارتی سطح پر سرتوڑ کوششیں شروع کر دی ہیں۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے مسلسل رابطے شروع کر دیے ہیں تاکہ موجودہ صورتحال کو بگڑنے سے روکا جا سکے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جا سکے۔ اسی سلسلے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کو سفارتی عمل میں بڑی رکاوٹ قرار دیدیا، عراقچی نے بتایا کہ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کریں گے کہ آگے کیسے بڑھاجائے۔
گفتگو میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے علاقائی امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے تمام زیر التوا مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے مسلسل بات چیت کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل قریبی رابطے اور مکالمے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
دوسری جانب پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو بھی ہوئی جس میں علاقائی صورتحال اور ممکنہ سفارتی راستوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان خطے میں تناؤ میں کمی کے لیے ثالثی اور رابطہ کاری کا کردار ادا کر رہا ہے اور مختلف سفارتی چینلز کے ذریعے پیغامات کے تبادلے میں بھی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
پاکستانی قیادت کا مؤقف ہے کہ کسی بھی تنازع کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور خطے میں امن کے لیے تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
گزشتہ تین سے چار دن سے صورتحال کے لیے مکمل تیاریاں کی جا چکی ہیں۔ اسلام آباد کے کچھ علاقے لاک ڈاؤن میں ہیں جبکہ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا مذاکرات ہوں گے یا نہیں اور کب ہوں گے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان نے امریکی حکام کو بتایا ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات میں سے ایک اہم قدم ناکہ بندی کا خاتمہ ہوگا، اور یہی اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے۔
اب بھی توقع کی جا رہی ہے کہ پسِ پردہ سفارت کاری جاری ہے اور پاکستان کو امید ہے کہ مذاکرات ضرور ہوں گے، تاہم صورتحال میں غیر یقینی پائی جاتی ہے کیونکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بیانات روز بروز سخت ہوتے جا رہے ہیں۔
اگر مذاکرات ہوتے ہیں تو وہ آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر ہونے چاہئیں، ورنہ ان کے ملتوی ہونے کا امکان ہے۔