ایران کے ساتھ 2015 کے معاہدے میں وہ وعدے جن سے مغرب پھر گیا
آسٹریا کے دارالحکومت دیانا میں حتمی مذاکرات 18 روز تک جاری رہے تھے
تصویر: وکی پیڈیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ زیر بحث ممکنہ ڈیل 2015 میں اوباما انتظامیہ کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدےکے مقابلے میں بہتر ہوگی۔ٹرمپ نے اوباما دور کے جوہری معاہدے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ وہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے ایک ضامن راہ تھی جسے ایران نے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے ملکوں کے خلاف بھی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنا تھا۔
پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدہ 2015 میں ہوا تھا،جس پر بات چیت میں تقریباً دو سال لگے تھے۔پہلے سوئٹرزرلینڈ اور پھر آسٹریا میں ایران نے پی پلس فائیو سے مذاکرات کیے۔ان ملکوں میں امریکہ، برطانیہ، چین، روس ، فرانس اور جرمنی شامل تھے۔یورپی یونین بھی سمجھوتے کا حصہ تھی۔
آسٹریا کے دارالحکومت دیانا میں حتمی مذاکرات 18 روز تک جاری رہے تھے جس کے بعد ایران اورچھ بڑی طاقتوں کے درمیان ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں معاہدے پر اتفاق ہواتھا۔امریکی صدر براک اوباما نے اسے ایک تاریخی پیش رفت قراردیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اگر اس پر عمل ہوا تو دنیا زیادہ محفوظ ہو جائے گی تاہم اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہناتھا کہ یہ معاہدہ ان کی بقا کے لیے خطرہ ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ فریم ورک پر مہینوں کی سخت اور اصولی سفارت کاری کے بعد اتفاق ہوا ہے اور یہ ایک عمدہ معاہدہ ہے۔
معاہدے کے اہم بنیادی نکات کی روسے طے کیا گیا تھاکہ اقوام متحدہ کے معائنہ کار 24 دنوں میں جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کے ساتھ ایرانی فوجی تنصیبات کے دوروں کا مطالبہ بھی کر سکیں گے۔ ایران کو اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کو تمام جوہری تحصیات تک مکمل رسائی دینا ہو گی۔ یہ انسپکٹر طے کریں گے کہ ایران ایک مقر رہ حد تک ہی یورینیم فزودہ کرے اور اس کاذخیرہ رکھ سکے۔ ایران کو صرف پرامن مقاصد کیلئے جو ہری ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ ایٹمی پرو گرام کسی صورت ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔ ایران کو اقوام متحدہ کے حکمرانوں کی درخواست چیلنج کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ اس صورت میں فیصلہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کا بورڈ کرے گا۔ اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو65روز کے اندر ایران پر تجارتی اور اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کر دی جائیں گی۔
جولائی 2015 میں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور سامنے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے اسے مسئلے کے پرامن کا ’واحد قابل عمل راستہ‘ قرار دیاتھا ۔کمیٹی کے سامنے وزیرِ خارجہ جان کیری کے ہمراہ وزیرِ خزانہ جیک لیئو اور وزیرِ تونائی ارنیسٹ موئز پیش ہوئے۔ جان کیری نے کمیٹی کو بتایاکہ ہمیں ایران کوجوہری ہتھیاروں سے دور رکھنا تھا اور ہم نے یہ حاصل کر لیا ہے۔
صدر حسن روحانی نے ٹی وی پر خطاب میں کہا کہ یہ معاہدہ تاریخ کا ایک نیا صفحہ ہے اور ایران کے عوام یہی چاہتے تھے۔روحانی کا کہناتھاکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہم دنیا کے ساتھ جنگ لڑیں یا پھر عالمی طاقتوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ان میں سے کوئی چیز نہیں ہو گی، اور ایک تیسرا راستہ بھی ہے۔ ہم دنیا کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔
معاہدے کے مطابق ایران کو جوہری پروگرام کو محدود کرنے کا پابند بنایاگیاتھاجس کے بدلے ایرانی تیل کی فروخت پر ااوردیگر اقتصادی پابندیوں میں بھی کمی کی یقین دہانی کرائی گئی۔
ایران پر پابندیاں 1995 میں صدر بل کلنٹن کے دور میں عائد کی گئی تھیں اور ان کے تحت امریکی کمپنیوں کو ایران میں سرمایہ کاری کی اجازت نہیں۔ امریکہ نے یہ پابندیاں ایران کے متنازع جوہری پروگرام اور اس پر دہشتگردی کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے عائد کی تھیں۔
معاہدے کے تحت ایران نے اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت میں کمی لانے کے لیے سینٹری فیوجوں کی تعداد میں دو تہائی کمی پر اصولی اتفاق کیا ۔طے کیا گیا کہ ایران کے پاس اس وقت موجود یورینیئم کا زیادہ تر ذخیرہ تلف کر دیا جائے گا اور اس کے بدلے میں اس پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔
لوزین میں آٹھ دن کی گفت و شنید کے بعد ایران اور یورپی یونین نے فریم ورک پر اتفاقِ رائے کا اعلان کیا ۔
اس معاہدے کے خاکے میں درج ذیل شرائط شامل تھیں۔
ایران اپنے سینٹری فیوجوں میں دو تہائی کمی لائے گا اور اپنے ذخیرہ شدہ افزودہ یورینیئم کو بھی کم کرے گا۔
ایران کے فالتو سینٹری فیوج اور افزدوگی کی تنصیبات پر عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی آئی اے ای اے نظر رکھے گا۔
آئی اے ای اے ایران کی تمام جوہری تنصیبات کا باقاعدگی سے معائنہ کرتی رہے گی۔
ایران اپنے ارک میں واقع بھاری پانی کے ری ایکٹر میں ایسی تبدیلیاں کرے گا کہ وہاں ہتھیار بنانے کے اہل پلوٹونیئم نہ بنایا جا سکے۔
ایران پر عائد امریکہ اور یورپی یونین کی پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جائیں گی، لیکن اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا تو انھیں دوبارہ عائد کر دیا جائے گا۔
میڈیارپورٹس میں کہا گیا تھاکہ اگراس پر مکمل طور پر عملدرآمد ہوا 10 سے 15 سال تک ایران کا جوہری پروگرام رک جائے گا۔ ایران کیا کر رہا ہے یہ جاننا اس معاہدے کے چند اہم نکات کی رو سے بین الاقوامی معائنہ کاروں کے لیے ممکن ہو جائے گا۔تاہم، برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ،لیکن یہ معاہدہ مغربی ممالک کے ابتدا میں مقرر کیے گئے اس ہدف سے دور ہے جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا تھا۔
ایران کے جوہری پروگرام کی رفتار کیا ہوگی اس کے لیے امریکی محکمہ خارجہ نے ایک طویل فہرست جسے اس نے ’مشترکہ اقدامات کے جامع پلان‘ قرار دیاگیا جاری کی تھی۔
معاہدے کی رو سے ایران کو 19000 میں سے اپنی 6104 سینٹری فیوجز مشینیں چلانے کی اجازت مل گئی۔ ان میں سے 5000 ایسی ہوں گی جو یورینیم کی افزودگی کریں گی۔ یہ تمام مشینیں زیادہ جدید نہیں اور جو بھی ذخیرہ ہوگا وہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی زیرِ نگرانی ہوگا۔
ایران اپنے کم مقدار میں افزودہ حالت میں موجود یورینیم کے ذخیرے کو کم کرےگا جو کہ جوہری بم بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
ایران فردوح میں موجود اس زیرِ زمین سائٹ کو 15 سال کے لیے بند کر دے گا جہاں یورینیم کی افزودگی ہوتی ہے۔
معاہدے کے مطابق بین الاقوامی معائنہ کاروں کو نہ صرف ایران کی اہم جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہوگی بلکہ وہ یورینیم کی کانوں اور کارخانوں کا معائنہ بھی کر سکیں گے۔
ایران پابند ہوگا کہ وہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو ملک بھر میں مشکوک یا خفیہ جگہوں تک رسائی دے۔
اراک میں بھاری پانی کے ری ایکٹر سے خدشہ تھا کہ ایران پلوٹونیم سے بھی بم بنا سکتا ہے تاہم اب ایران پلوٹونیم کو ہتھیار بنانے کی سطح تک استعمال میں نہ لا نے کا پابند بنادیاگیاتھا۔
مندرجہ بالا پابندیوں میں سے کچھ تو 10 سال کے لیے تھیں ،اورچند کو 15 سال کے لیے لاگو کیا گیا۔ایران کو حقیقی معنوں میں مکمل طور پر تمام جوہری تنصیبات کو بند نہیں کرنا ہو گا۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جب ایک بار پابندیاں ختم ہوجائیں گی تو پھر یہ ایران کی جوہری انڈسٹری کے لیے ایک بنیاد ہوگی۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے لکھا کہ یہ تفصیلات متاثر کن ہیں اور انھوں نے ماہرین کو بھی قائل کر لیا ہے کہ ایران کو ایک طویل عرصے کے لیے جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے پابند رکھیں گی۔لیکن دوسری جانب یہ وقت ایران کے لیے کافی بھی نظر آتا ہے کہ اس میں وہ کوشش کر کے اس عرصے میں کافی مقدار میں افزودگی کر سکتا ہے ، بم بنا سکتا ہے اور ڈیل کو ختم کرسکتا ہے۔اگرچہ معائنہ کاری کے لیے اہم شقیں بھی موجود ہیں تاہم اس سے بہت سے مخالفین قائل نہیں ہو سکے جیسے کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ عبوری معاہدہ ایک بہت بڑی تاریخی غلطی ہے۔
2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو اس معاہدے سے یک طرفہ طورپر الگ کرلیا تھاجس کے بعد معاہدے میں شامل دیگر عالمی طاقتوں نے اسے بچانے کی کوششیں کیں۔ جرمنی کے وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ معاہدے پر مکمل نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہائیکو ماس نےاضافی جوہری معاہدہ‘ کی جو تجویز پیش کی اس میں تہران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے علاوہ اس کے بیلسٹک پروگراموں پر پابندی عائد کرنے کی بھی بات شامل تھی۔ اس میں مشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں میں ایران کی مداخلت کو روکنے کی بات بھی کہی گئی ۔
دسمبر 2016 کے اوائل میں امریکی سینیٹ نے ایران پر جوہری پروگرام کے حوالے سے عائد اقتصادی پابندیوں کے ایکٹ میں مزید 10 سال کی توسیع کی منظوری دی،اسی برس کے اختتام پر پابندیوں کی مدت ختم ہونی تھی ۔اس ایکٹ کو نومبر میں ایوان نمائندگان سے منظوری حاصل ہو ئی تھی ۔سینٹ میں منظوری سے دو دن پہلے ہی امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا خاتمہ تباہ کن اور حماقت کی انتہاہوسکتا ہے، ایسا کرنے سے ایران میں سخت گیروں کو تقویت ملنے کا خطرہ ہے ۔
بعدمیں نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے اشارہ دیا تھاکہ اگر ایران جوہری معاہدے پر مکمل طورپر عمل کرنے کا وعدہ کرتا ہے تو واشنگٹن اس معاہدے میں دوبارہ شامل ہوسکتا ہے۔ لیکن ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے معاہدے میں کسی طرح کی ترمیم کے حوالے سے بات چیت کو مسترد کردیا تھا۔