امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان موخر

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی لمحے اپنا فیصلہ تبدیل کر سکتے ہیں۔امریکی عہدیدار

               
April 21, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن :خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا دورہ مؤخر کر دیا گیا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی لمحے اپنا فیصلہ تبدیل کر سکتے ہیں۔

عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر منگل کی دوپہر واشنگٹن پہنچنے والے تھے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی جا سکے۔

عہدیدار نے یہ پیش گوئی کرنے سے انکار کیا کہ اگر موجودہ جنگ بندی اسلام آباد میں کسی مزید ملاقات کے بغیر ختم ہو گئی تو کیا ہو گا، تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ کے پاس فضائی حملے دوبارہ شروع کیے بغیر بھی کئی آپشنز موجود ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے تاحال مذاکرات میں شرکت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے پاکستان میں ایران کے ساتھ آئندہ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کرنی تھی، منگل کی دوپہر تک اجلاسوں میں شرکت کی غرض سے واشنگٹن میں موجود تھے۔

ایک عہدیدار نے اے ایف پی کو 1700 جی ایم ٹی کے فوراً بعد بھیجے گئے مختصر بیان میں کہا کہ مزید پالیسی اجلاس وائٹ ہاؤس میں ہو رہے ہیں جن میں نائب صدر شرکت کریں گے۔

اگرچہ عہدیدار نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم حالیہ رپورٹس کے مطابق جے ڈی وینس کی روانگی منگل کی صبح کے لیے طے تھی۔

ادھر یہ بھی خاصی الجھن پائی جاتی ہے کہ جنگ بندی کس وقت ختم ہو گی۔ پاکستان نے آج کہا تھا کہ جنگ بندی کی میعاد پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ یہ اس سے تقریباً 24 گھنٹے بعد ختم ہو گی۔

یہ واضح نہیں کہ آیا امریکہ نے جنگ بندی کے خاتمے کا کوئی مخصوص وقت مقرر کیا ہے یا نہیں، کیوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف اتنا کہا ہے کہ یہ بدھ کی شام ختم ہو گی۔

یہ بھی ممکن ہے کہ جنگ بندی میں توسیع سے متعلق کوئی سرکاری اعلان ٹروتھ سوشل کے ذریعے سامنے آئے یا پھر ایران پر حملوں کی اطلاعات کے ساتھ اس بارے میں ہمیں پتا چلے۔