بنگلہ دیش میں ’جین زی‘انقلاب کے بعد کی اصلاحات ختم ہونے لگیں

ایک بار پھر پرانے طرزِ سیاست کی واپسی کا خدشہ پیداہوگیا

               
April 22, 2026 · امت خاص

 

بنگلہ دیش میں حالیہ انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے والی ’بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی‘ (BNP) کی حکومت نے عبوری حکومت کی متعارف کردہ اصلاحات کو ریورس کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے ملک میں ایک بار پھر پرانے طرزِ سیاست کی واپسی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

 

رپورٹس کے مطابق، طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی حکومت نے سب سے پہلے ان اداروں کو نشانے پر لیا ہے جنہیں انقلاب کے بعد خود مختار بنایا گیا تھا۔ قومی انسانی حقوق کمیشن اور اینٹی کرپشن کمیشن، جو کرپشن اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف ڈھال قرار دیے جا رہے تھے، اب دوبارہ حکومتی اثر و رسوخ کے زیرِ اثر آنے کے قریب ہیں۔

 

سب سے زیادہ تشویشناک پہلو ڈیجیٹل سیکیورٹی ایکٹ کی واپسی کا اشارہ ہے۔ عبوری حکومت نے صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کے تحفظ کے لیے جو نرمی متعارف کرائی تھی، نئی حکومت اسے دوبارہ اسی سخت شکل میں نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت محض تنقید پر گرفتاریاں ممکن ہوں گی۔

 

اصلاحات کے تحت عدلیہ کی آزادی کے لیے سپریم کورٹ سیکرٹریٹ کا قیام اور ججوں کی تعیناتی کے لیے کونسل بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جسے اب ختم کر کے دوبارہ پرانا نظام لایا جا رہا ہے۔ اسی طرح پولیس کو سیاسی دباؤ سے نکالنے کے لیے لایا گیا ’پولیس سروس ایکٹ‘ بھی سرد خانے کی نذر کر دیا گیا ہے، جبکہ اہم عہدوں پر پرانے نظام کے حامی افسران کی واپسی ہو چکی ہے۔

 

یاد رہے کہ عبوری حکومت نے ملک کو نئی راہ پر ڈالنے کے لیے 100 سے زائد آرڈیننس متعارف کرائے تھے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی منتخب پارلیمنٹ ان آرڈیننسز کو منظور کرنے کے بجائے یا تو منسوخ کر رہی ہے یا ان میں ایسی ترامیم کر رہی ہے جس سے ان کی روح ختم ہو جائے۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف لایا گیا خصوصی قانون بھی اب خطرے میں ہے۔

 

مبصرین کا کہنا ہے کہ روایتی سیاست دان عوامی مینڈیٹ کا سہارا لے کر ان ترامیم کو ’غیر جمہوری‘ قرار دے رہے ہیں جو ان کے لامحدود اختیارات کی راہ میں رکاوٹ تھیں۔ دوسری جانب، حکومت کا موقف ہے کہ وہ قوانین کو ختم نہیں کر رہی بلکہ ان پر محض ’نظر ثانی‘ کر رہی ہے تاکہ انہیں ملکی ضرورت کے مطابق ڈھالا جا سکے۔تاہم، طلبہ اور سول سوسائٹی میں ان اقدامات کے خلاف بے چینی بڑھ رہی ہے، جن کا ماننا ہے کہ جس تبدیلی کے لیے انہوں نے قربانیاں دیں، اسے سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔