جنوبی کوریا : سیلفیاں لینے کے شوقین جنگی پائلٹوں نے 2 لڑاکا طیارے ٹکرا دیے، بھاری جرمانہ عائد

یہ واقعہ 2021 میں وسطی شہر ڈائگو میں پیش آیا تھا، حقیقاتی تفصیلات اب منظر عام پر آئی ہیں۔

               
April 22, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

سیول: جنوبی کوریا میں ایک حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے جہاں فضائیہ کے دو لڑاکا طیارے محض اس لیے فضا میں ٹکرا گئے کیونکہ پائلٹس پرواز کے دوران موبائل فون سے تصاویر اور ویڈیوز بنانے میں مصروف تھے۔

سیول کے بورڈ آف آڈٹ اینڈ انسپکشن کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ 2021 میں وسطی شہر ڈائگو میں پیش آیا تھا، جس کی تحقیقاتی تفصیلات اب منظر عام پر آئی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشن کے دوران طیاروں کے ٹکرانے سے پائلٹس تو محفوظ رہے، تاہم دونوں جیٹ طیاروں کو شدید نقصان پہنچا، جس کی مرمت پر جنوبی کوریائی فوج کے 880 ملین وون (تقریباً 5 لاکھ 96 ہزار ڈالر) خرچ ہوئے۔

تحقیقات کے مطابق، تصادم کا ذمے دار وہ پائلٹ تھا جو ونگ مین ایئر کرافٹ اڑا رہا تھا۔ مذکورہ پائلٹ اپنی یونٹ کے ساتھ آخری پرواز کو یادگار بنانا چاہتا تھا، جس کے لیے اس نے پرواز سے قبل بریفنگ میں بھی اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ واپسی کے سفر کے دوران جب اس نے اپنے ذاتی موبائل سے تصاویر لینا شروع کیں تو طیارہ توازن برقرار نہ رکھ سکا اور لیڈ ایئر کرافٹ سے جا ٹکرایا۔

آڈٹ بورڈ نے انکشاف کیا کہ اس وقت پائلٹس میں اہم پروازوں کی تصاویر لینے کا رواج عام تھا۔ واقعے کے ذمہ دار پائلٹ کو، جو اب فوج چھوڑ چکا ہے، غفلت برتنے پر 88 ملین وون جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

کورین حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد فضائی حدود میں سیفٹی پروٹوکولز اور پائلٹس کے موبائل فون استعمال کرنے کے حوالے سے قواعد کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔