پہلگام حملہ:ایک سال بعدبھارتی میڈیا نے مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑاکردیا

چارج شیٹ کئی بنیادی سوالات کے تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہی ہے۔جریدہ

               
April 24, 2026 · امت خاص
بھارتی جنگجو میڈیا نے پہلگام فالس فلیگ کے فوری بعد جھوٹی خبریں پھیلائیں ، فائل فوٹو

بھارتی جنگجو میڈیا نے پہلگام فالس فلیگ کے فوری بعد جھوٹی خبریں پھیلائیں ، فائل فوٹو

 

مقبوضہ کشمیر میں پہلگام کے سیاحتی مقام پر اپریل 2025 میں ہونے والے حملے کو ایک سال گزر چکا ہے، مگر تحقیقات کے حوالے سے اب بھی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

بھارتی تحقیقاتی ادارے (NIA) نے چارج شیٹ تو جمع کرائی، لیکن بھارتی میڈیا کے کچھ حلقوں کے مطابق یہ دستاویز کئی بنیادی سوالات کے تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہی ہے۔

اخبار ’’ داہندو‘‘ کے میگزین ’’ فرنٹ لائن‘‘کے مضمون میں کہا گیا کہ چارج شیٹ الزامات دہراتی ہے، لیکن پچھلے ایک سال میں پیدا ہونے والے بنیادی سوالات (جیسے مکمل ثبوت، سیکیورٹی ناکامی، اور حقیقی ذمہ داران) کا مطمئن جواب نہیں دیتی۔ اس سے پہلگام واقعے کے بارے میں شکوک مزید گہرے ہو گئے ہیں۔

آرٹیکل اس بات پر سوال اٹھاتا ہے کہ کیا یہ جلد بازی اور الزام تراشی ایک اسٹریٹجک پلان کا حصہ تھی، جس کے بعد انڈس واٹر ٹریٹی معطل کرنے، فوجی کارروائیوں (آپریشن سندور) جیسے اقدامات کیے گئے۔میڈیا میں بھی بغیر تصدیق کے الزامات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔

اسی طرح The Tribune نے نشاندہی کی کہ ایک سال گزرنے کے باوجود کسی بڑے سکیورٹی افسر کے خلاف واضح کارروائی سامنے نہیں آئی، حالانکہ یہ ایک بڑا حملہ تھا۔

بھارتی میڈیاکے مطابق واقعے کے فوراً بعد پاکستان پر الزام عائد کیا گیا، لیکن اب تک کوئی ایسا قابلِ تصدیق ثبوت عالمی سطح پر پیش نہیں کیا گیا جو ان الزامات کو مکمل طور پر ثابت کرے۔پاکستان کی جانب سے غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کا بھی ذکر سامنے آتا ہے، جسے قبول نہیں کیا گیا۔

مزید یہ کہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس ناکامیوں سے متعلق سوالات بھی برقرار ہیں۔حملے کی پیشگی اطلاع کیوں نہیں تھی؟ردعمل اتنی تیزی سے کیسے ترتیب پایا؟
یہ تمام نکات اس بحث کو جنم دیتے ہیں کہ آیا معاملہ صرف دہشت گردی کا تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور پہلو بھی موجود ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے 30 اپریل 2025ء کو بریفنگ کے دوران پہلگام فالس فلیگ سے پردہ اٹھایا تھا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم اس واقعہ کے حقائق پر جائیں گے، الزامات پر نہیں، اگر الزام یہ ہے کہ یہ واقعہ پاکستانی سرزمین سے نام نہاد دہشت گردوں نے کیا تو یہ مدنظر رکھا جائے کہ پہلگام کسی بھی پاکستانی قصبے سے 200 کلومیٹر سے زیادہ دور ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کوئی ایسا ہموار علاقہ نہیں جو سفر کیلئے آسان ہو اور نہ یہاں ایسی سڑکیں ہیں جو ہر موسم میں کھلی رہ سکیں، جائے وقوعہ سے پولیس سٹیشن تک پہنچنے میں کم از کم آدھا گھنٹہ لگتا ہے، ایف آئی آر کے مطابق 10 منٹ میں پولیس کا پہنچنا اور واپس آ کر رپورٹ درج کرنا سوالیہ نشان ہے، جس سے تیاری اور سازش کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔یہ بھی بتایا گیا تھا کہ بھارتی انٹیلی جنس کو واقعہ کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، لیکن واقعہ کے فوراً بعد 10 منٹ میں یہ دعویٰ سامنے آ گیا کہ حملہ آور سرحد پار سے آئے تھے۔

ایک سال بعد، صورتحال یہ ہے کہ الزامات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن شواہد اور سوالات کے درمیان خلا بھی برقرار ہے۔اور یہی خلا اس واقعے کو متنازع بناتا جا رہا ہے۔