مذاکرات میں جوہری ماہرین کی عدم موجودگی سے معاہدہ کمزور ہوگا۔یورپی یونین
ایران نے جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے، یورینیم کی افزودگی، ذخائر میں کمی پر اتفاق کیاتھا
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالس نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات میں جوہری ماہرین شامل نہ ہوئے تو کوئی بھی معاہدہ 2015 کے جوہری معاہدے جامع مشترکہ لائحۂ عمل (جے سی پی او اے) سے بھی کمزور ہوگا۔
انہوں نے قبرص میں یورپی رہنماؤں کے غیر رسمی اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کہا، “اگر مذاکرات صرف جوہری معاملے تک محدود رہے اور میز پر جوہری ماہرین موجود نہ ہوں تو نتیجہ ایک کمزور معاہدہ ہوگا۔
کایا کالس نے مزید کہا کہ اگر خطے کے مسائل، میزائل پروگرام، ایران کی پراکسی گروپس کی حمایت اور یورپ میں ہائبرڈ و سائبر سرگرمیوں کو بھی زیر بحث نہ لایا گیا تو اس سے ایک زیادہ خطرناک ایران سامنے آ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جے سی پی او اے کے تحت ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے، یورینیم کی افزودگی اور ذخائر میں کمی پر اتفاق کیا تھا، جس کے بدلے بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی دی گئی تھی۔
تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے 2018 میں اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔