صدر ٹرمپ کا اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ

مذاکرات اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جہاں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شرکت کریں گے ، امریکی ٹی وی

               
April 24, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مذاکرات کا ایک دور جلد ہونے کا امکان ہے۔ ایران سے وزیر خارجہ عباس عراقچی جبکہ امریکا سے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

ابتدا میں امریکی وفد کے اسلام آباد نہ آنے کی خبر آئی تھی، تاہم اب سے کچھ دیر پہلے امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے امریکی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے لیے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سی این این کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایلچی اسٹیو وٹکوف کی قیادت میں وفد کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں وہ اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیں گے۔

امریکی ٹی وی کے مطابق یہ مذاکرات اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جہاں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شرکت کریں گ۔

رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس فی الحال ان مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔

سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی حکام نے کہا کہ باقر قالیباف کو ایرانی وفد کے سربراہ اور جے ڈی وینس کے ہم منصب کے طور پر دیکھا جاتا ہے،  مذاکرات آگے بڑھتے ہیں تو جے ڈی وینس کسی بھی وقت پاکستان آنے کے لیے تیار ہیں۔

یڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا عملہ اسلام آباد میں ہوگا اور مذاکرات کا حصہ رہے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ وہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے پر نکل رہے ہیں۔ ان کے اس دورے کا مقصد دو طرفہ امور پر اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے رکھنا اور خطے میں ہونے والی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق عباس عراقچی اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔