ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز ریڈ لائن قرار ، ایران نے پاکستان کے ذریعے تحریری پیغام امریکا کو پہنچا دیا
ایران نے جن امور پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے انکار کیا ہے، ان میں دو اہم نکات ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز ہیں ، ذرائع
فائل فوٹو
تہران: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کے دورے کے دوران امریکہ کے لیے اہم پیغامات روانہ کیے ہیں، جن میں تہران کی جانب سے واضح ’ریڈ لائنز‘ (سرخ لکیریں) متعین کی گئی ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا اور پاسدارانِ انقلاب کے قریبی ذرائع کے مطابق یہ پیغامات براہِ راست مذاکرات کے بجائے پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائے گئے ہیں۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران واضح کیا کہ ایران فی الحال امریکہ کے ساتھ کسی براہِ راست مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس کے بجائے، اسلام آباد کو ایک ’کمیونیکیشن برج‘ (رابطے کے پل) کے طور پر استعمال کیا گیا ہے تاکہ ایران کے مطالبات اور خدشات امریکی حکام تک پہنچائے جا سکیں۔
ذرائع کے مطابق ایران نے جن امور پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے انکار کیا ہے، ان میں دو اہم نکات ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز ہیں۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے ایٹمی حقوق اور طے شدہ حدود سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ خطے کی سیکیورٹی اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے اس اہم ترین آبی گزرگاہ پر ایران نے اپنی خودمختاری کو ’ریڈ لائن‘ قرار دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’فارس‘ کے مطابق، ان پیغامات کا مقصد روایتی مذاکرات نہیں بلکہ خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے حوالے سے ایران کے موقف کو دو ٹوک انداز میں واضح کرنا ہے۔
ایران نے پیغام دیا ہے کہ اگر امریکہ جارحانہ اقدامات، بشمول بحری ناکہ بندی یا پابندیاں جاری رکھتا ہے، تو تہران اس کا بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔