جوہری ہتھیاروں سے متعلق کانفرنس میں ایران نائب صدر منتخب، امریکا صدمے میں مبتلا

ایران کو اتنے اہم عہدے پر فائز کرنا عالمی نظام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے، امریکی مندوب

               
April 27, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

نیو یارک: اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) نیوکلئیر نان پرولیفریشن ٹریٹی کے جائزہ اجلاس کے آغاز پر ہی امریکہ اور ایران کے درمیان شدید لفظی جنگ چھڑ گئی۔ نیویارک میں منعقدہ چار ہفتہ طویل کانفرنس کا ماحول اس وقت تناؤ کا شکار ہو گیا جب ایران کو کانفرنس کے 34 نائب صدور میں سے ایک کے طور پر منتخب کر لیا گیا۔

امریکی وفد نے ایران کے انتخاب پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے “انتہائی افسوسناک اور حیران کن” قرار دیا۔ امریکی نمائندے نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس فیصلے پر “شدید صدمے” میں ہے کیونکہ ایران نے مسلسل اس عالمی معاہدے کی روح کی خلاف ورزی کی ہے اور بین الاقوامی برادری کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ امریکہ کا موقف تھا کہ جس ملک کے جوہری عزائم متنازع ہوں، اسے اتنے اہم عہدے پر فائز کرنا عالمی نظام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

دوسری جانب ایران کے مستقل مندوب رضا نجفی نے امریکی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں “بے بنیاد اور سیاسی پروپیگنڈا” قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا انتخاب 121 ممالک پر مشتمل غیر وابستہ تحریک (NAM) کی حمایت سے ہوا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کا ایک بڑا حصہ امریکہ کے یکطرفہ موقف سے اتفاق نہیں کرتا۔

آسٹریلیا، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ نے امریکی موقف کی تائید کی، جبکہ فرانس اور جرمنی نے بھی ایران کے نائب صدر بننے پر “تشویش” کا اظہار کیا۔ روس نے ایران کو انفرادی طور پر نشانہ بنانے کی مخالفت کی اور کہا کہ کسی بھی ملک کو سیاسی بنیادوں پر عالمی فورمز سے بے دخل نہیں کیا جانا چاہیے۔

یاد رہے کہ یہ کانفرنس آئندہ چار ہفتوں تک جاری رہے گی، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ پہلے ہی دن کے تندوتیز جملوں کے تبادلے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے عالمی اتفاقِ رائے کا حصول اس بار بھی ایک کٹھن چیلنج ثابت ہو گا۔