صدر ٹرمپ کی اپنی قومی سلامتی ٹیم سے ملاقات۔ایران کی نئی امن تجویز پر غور

امریکی صدر ٹرمپ کی ریڈ لائنز واضح اور غیر لچکدار ہیں۔ کیرولین لیویٹ

               
April 28, 2026 · بام دنیا

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی گئی ہے، تاہم امریکی صدر ٹرمپ کی ریڈ لائنز واضح اور غیر لچکدار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کسی ایسی ڈیل کو قبول نہیں کرے گا جس میں ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت دی جائے۔
ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کی زیر صدارت وائٹ ہاؤس کے ویسٹ ونگ میں قائم سچویشن روم میں اہم اجلاس ہوا، جس میں ایران کی امن تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

یہ تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچائی گئی ہیں، جن میں سب سے پہلے جنگ کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں ایران نے آئندہ حملے نہ کرنے کی ضمانت مانگی ہے۔

ایران نے تیسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز کھولنے کو امریکی سمندری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کیا ہے، جس کے بعد جوہری پروگرام پر بات چیت کی پیشکش کی گئی ہے، تاہم اس کے لیے امریکہ کو پُرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کے ایران کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔

دریں اثنا، فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو وہ براہ راست رابطہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس محفوظ مواصلاتی ذرائع موجود ہیں اور ایران کو معلوم ہے کہ کسی بھی معاہدے کے لیے کیا شرائط درکار ہیں۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہوتا تو مذاکرات بے معنی ہوں گے۔