پاکستان میں گدھے اب اعلانیہ کاٹے جائیں گے۔گوشت اور کھالیں چین برآمد کرنے کافیصلہ

وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے منظوری دے دی

               
April 28, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

 

وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گدھے کا گوشت اور کھالیں چین برآمد کرنے کی منظوری دے دی ۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)کا اجلاس منعقد ہوا۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی اور قیمتوں میں استحکام پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی عارضی درآمد کی اجازت دے دی۔ کمیٹی نے جبری مشقت سے تیار اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کی ،گدھے کا گوشت اور کھالیں چین برآمد کرنے کی منظوری دے دی۔

اجلاس میں گوادر سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد سے متعلق موجودہ ذخیرے کو قواعد کے مطابق فروخت کرنے کی منظوری دی گئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس اسلام آباد کے علاقہ ترنول میں 50 سے زائد گدھے اور 25 من گوشت برآمد ہوا تھا، جہاں گدھوں کے گوشت کیلئے سلاٹرہاؤس بنایا گیا تھا، سلاٹر ہاؤس میں گدھے ذبح کرکے گوشت کولڈ سٹوریج میں رکھا جاتا تھا، گوشت کا ایک حصہ پاکستان میں غیرملکی باشندوں کو بھجوایا جاتا تھا، گدھے کی کھالیں اور گوشت بیرون ملک بھی سپلائی کیا جاتا تھا، گدھوں کو ذبح کرنےکے لیے قصائی بھی بیرون ملک سے بلوایا گیا، سلاٹرہاؤس سے 14 گدھوں کی باقیات اور45 گدھے زندہ برآمد کیے گئے، گدھوں کے گوشت کی مقامی مارکیٹوں میں سپلائی کے شواہد نہیں ملے تھے لیکن اس کے باوجود شہریوں میں اس حوالے سے تحفظات پیدا ہوئے تھے۔

چین میں گدھوں کے گوشت کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظراکتوبر 2024 میں وفاقی وزارت برائے قومی تحفظ خوراک اور تحقیق کے عہدیدار ڈاکٹر اکرام نے بتایاتھاکہ پاکستان پڑوسی ملک کو اس جانور کا گوشت اور کھالیں برآمد کرے گا۔ڈاکٹر اکرام کا کہناتھاکہ ابھی جو چین سے معائدے ہوئے ہیں وہ سالانہ دو لاکھ 16 ہزار گدھوں کی کھالوں اور گوشت کی ترسیل کے حوالے سے ہیں لیکن چینی کمپنیاں مذبح خانے کراچی پورٹ کے قریب بنانے میں دلچسپی رکھتی ہیں ،تاہم ایسا کرنا ہمارے لیے اپنی فوڈ سکیورٹی کی وجہ سے ممکن نہیں کیونکہ اگر شہر کے اندر مذبح خانے بنائے تو لوکل مارکیٹ میں بھی وہ گوشت پہنچ سکتا ہے اس لیے ایسی کسی درخواست کو منظور نہیں کر رہے۔ ہم کراچی سے باہر تجارتی پورٹ پر مذبح خانے بنانے کو ترجیح دیں گے۔ڈاکٹر اکرام نے بتایا کہ چین کو کھال اور گوشت برآمد کرنے کے لیے گوادر میں مذبح خانوں کی تعمیر کی جا رہی ہے، جو سب سے زیادہ محفوظ رہیں گے کیونکہ وہاں سے لوکل مارکیٹ متاثر نہیں ہو گی۔

جولائی 2024میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس کو ایک بریفنگ میں سیکریٹری تجارت نے کہا تھا کہ گدھوں کی ایکسپورٹ پر کوئی پابندی نہیں ، پاکستان میں گدھے کی فارمنگ بھی کی جاتی ہے۔سیکریٹری تجارت کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ گدھوں کی کھال پر بات طے پا گئی ہے البتہ گدھوں کے گوشت پر بات ہو رہی ہے۔

ستمبر 2025 میں ، اپنی نظرثانی شدہ تجویز میں وزارت خوراک نےگدھے کی کھالوں کی برآمد سے پابندی اٹھانے کی درخواست کی ، اس درخواست میں یہ شرط شامل تھی کہ ایسی برآمدات کو صرف اسی صورت میں اجازت دی جائے گی اگر وہ گوادر فری زون میں موجود مخصوص/منظور شدہ/رجسٹرڈ گدھوں کے مذبح خانوں سے حاصل کی گئی ہوں۔

2025 میں ادارہ شماریات نے بتایا تھاکہ ملک میں ایک سال کے دوران گدھوں کی تعداد مزید ایک لاکھ 9 ہزار بڑھ گئی جس کے بعد ان کی مجموعی تعداد 59 لاکھ 38 ہزار سے بڑھ کر 60 لاکھ47 ہزار ہوگئی۔

ٹیگز: