ایران جنگ پر امریکہ نے اب تک 25 ارب ڈالر خرچ کیے، پینٹاگون
ایران نے اپنی جوہری منصوبوں سے متعلق خواہشات ترک نہیں کی تھیں، اسی لیے امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر کارروائی کا فیصلہ کیا، امریکی وزیر دفاع
فائل فوٹو
واشنگٹن: کانگریس کی کمیٹی میں ڈیموکریٹک رکن ایڈم سمتھ نے سوال کیا کہ ایران کے خلاف جنگ پر امریکہ اب تک کتنے پیسے خرچ کر چُکا ہے اور کیا اراکینِ کانگریس کو جلد مکمل لاگت کی تفصیل فراہم کی جائے گی؟
سماعت میں شریک پینٹاگون کے اکاؤنٹس کا نگران افسر جُولز ہرسٹ نے بتایا کہ اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جن میں بڑا حصہ اسلحے اور گولہ بارود پر خرچ آیا ہے۔
ایڈم اسمتھ نے کہا کہ وہ اس جواب پر خوش ہیں کیونکہ کانگریس ایک طویل عرصے سے اس سوال کا جواب جاننے کی کوشش میں تھی، مگر اس سے پہلے کوئی بھی واضح تخمینہ سامنے نہیں آیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے سوال کیا کہ حکومت ایران کی جانب سے جوہری خطرے کے خاتمے کے لیے کیا منصوبہ رکھتی ہے؟
اس کے جواب میں ہیگسیتھ نے سابق امریکی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے ایران کے ساتھ ’خراب معاہدے‘ کیے اور سنہ 2016 میں سابق صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے مشترکہ جامع ایکشن پلان جسے ایران جوہری معاہدہ بھی کہا جاتا ہے کا حوالہ دیا۔
اس پر ایڈم اسمتھ کے لہجے میں سختی محسوس کی گئی انھوں نے کہا کہ یہ ماضی کی باتیں ہیں مستقبل کا کیا لائحہ عمل ہے؟ انھوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا واقعی ایران کی جانب سے کوئی فوری جوہری خطرہ موجود تھا جس کے باعث جنگ ناگزیر ہو گئی؟
ہیگسیتھ نے جواب دیا کہ ایران نے اپنی جوہری منصوبوں سے متعلق خواہشات ترک نہیں کی تھیں، اسی لیے امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر کارروائی کا فیصلہ کیا۔