ایران ‘ہار’ مان لے تو ہی ڈیل ہوگی، ٹرمپ
صدر نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو "جینیئس" اور "فول پروف" قرار دیا۔اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو
فائل فوٹو
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو اب صرف یہ تسلیم کرنا ہے کہ وہ “ہار مان چکا ہے”۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کا عسکری ڈھانچہ مفلوج ہو چکا ہے اور اب اس کے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران مذاکرات میں اب تک کافی آگے آچکا ہے لیکن اب بھی یہ سوال باقی ہے کہ کیا وہ مطلوبہ شرائط پوری کرے گا یا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ایران جوہری ہتھیاروں سے مکمل دستبرداری کا معاہدہ نہیں کرتا، تب تک کوئی ڈیل نہیں ہو سکتی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو بس اتنا کہنا ہے کہ “ہم ہار مانتے ہیں”
صدر نے امریکی آپریشن کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار سسٹم اور طیارہ شکن دفاعی نظام کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ایران کی میزائل بنانے والی تقریباً 80 فیصد تنصیبات تباہ کی جا چکی ہیں۔ ایران کے پاس اب دفاع کے لیے بہت کم وسائل بچے ہیں، جن میں میزائلوں کا ایک معمولی حصہ شامل ہے۔
صدر نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو “جینیئس” اور “فول پروف” قرار دیتے ہوئے اسے تہران پر دباؤ کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی انتظامیہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت اور پوری دنیا یہ جانتی ہے کہ امریکہ اپنے اس موقف پر سختی سے قائم ہے۔