ایران کی پاکستان کے ذریعے امریکہ کو نئی تجویز پیش ، سفارتی ذرائع کا دعویٰ
پاکستان، جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کی ترسیل کے لیے بنیادی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے، اس نئی تجویز کو امریکی حکام تک پہنچائے گا۔
فائل فوٹو
ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کے سلسلے میں اپنی تازہ تجویز پاکستان کو پہنچا دی ہے، جو ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایک ایرانی سفارتکار نے بتایا کہ یہ تجاویز خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دی گئی ہے، جہاں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان سخت بیانات اور ممکنہ جنگ کے خدشات بدستور موجود ہیں۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایران کی نئی پیشکش کا مقصد کشیدگی میں کمی اور ممکنہ تصفیے کی راہ ہموار کرنا ہے، تاہم اب بھی کئی اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، جن میں سیکیورٹی، علاقائی صورتحال اور دیگر اسٹریٹجک امور شامل ہیں۔
خطے کی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے اور تمام فریقین کی جانب سے سخت مؤقف اختیار کیے جانے کے باعث کسی حتمی پیش رفت تک پہنچنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ مزید سفارتی رابطے جاری ہیں اور عالمی برادری اس پیش رفت کو خطے میں امن کے امکانات کے تناظر میں اہم قرار دے رہی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ایران کی جانب سے پاکستان کے ذریعے بھجوائی گئی نئی تجاویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نجی سفارتی بات چیت کی تفصیلات ظاہر نہیں کرے گا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے رائٹرز کو بتایا کہ ’ہم نجی سفارتی بات چیت کی تفصیلات ظاہر نہیں کرتے ہیں۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا اور مختصر اور طویل مدت میں امریکہ کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔