امریکہ کا جرمنی سے اپنے 5 ہزار فوجی واپس بلانے کا اعلان
فریڈرک مرز ’انتہائی ناقص کارکردگی‘ دکھا رہے ہیں اور انھیں ’ہر طرح کے مسائل‘کا سامنا ہے
ایران جنگ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز کے درمیان اختلافات کے بعد امریکی محکمۂ دفاع نے جرمنی سے پانچ ہزار فوجیوں کے انخلا کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
یہ فیصلہ اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں صدر ٹرمپ نے چانسلر مرز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ مرز نے یہ تاثر دیا تھا کہ ایران کے مذاکرات کاروں نے امریکہ کی ’تضحیک‘ کی ہے۔
جمعرات کو سوشل میڈیا پر جاری سلسلہ وار پوسٹس میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ فریڈرک مرز ’انتہائی ناقص کارکردگی‘ دکھا رہے ہیں اور انھیں ’ہر طرح کے مسائل‘ کا سامنا ہے جن میں امیگریشن اور توانائی بھی شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل اٹلی اور اسپین سے بھی امریکی فوج نکالنے کی تجویز دے چکے ہیں۔
جرمنی میں امریکی فوجی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ گذشتہ دسمبر تک ملک بھر کے مختلف فوجی اڈوں پر 36 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات تھے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حکم وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ فیصلہ یورپ میں امریکی افواج کی تعیناتی سے متعلق محکمے کے جامع جائزے کے بعد کیا گیا ہے اور اس میں خطے کی ضروریات اور زمینی حالات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں توقع ہے کہ یہ انخلا آئندہ چھ سے 12 ماہ کے دوران مکمل ہو جائے گا۔