ایران تنازع جلد ختم ہونے کا امکان نہیں۔ صدر ٹرمپ اعلان

امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کے لیے ’بحری قزاقوں کی طرح‘ عمل کر رہی ہے

               
  May 2, 2026 · بام دنیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع سے جلد باہر نہ نکلنے کا اعلان کردیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقاصد کے حصول تک تنازع سے نہیں نکل سکتے کیونکہ اس سے مسئلہ چند سالوں بعد دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے۔
صحافیوں سےخطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر ایران کو نہ روکتے توصیہونی ریاست اور یورپ کے پرزے پرزے کیے جاچکے ہوتے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایک دفعہ پھر دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس بحریہ، فضائیہ اور کوئی قیادت نہیں رہی، ایران کی قیادت باقی نہ رہنے پر افسوس ہے، وہ بہت اچھے لوگ تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی پہلے اور دوسرے درجےکی قیادت ماری جا چکی، یہ برے لوگ تھے، انہوں نے 45 ہزار مظاہرین کو ہلاک کیا۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں تیل سے بھرے 400 بحری جہاز رکے کھڑے ہیں، یہ جہاز وہاں سے نکل آئے تو ایندھن کی قیمتیں بہت کم ہوجائیں گی۔

ٹرمپ نے شکوہ کیا کہ ہمیں اس جنگ میں نیٹو سے کوئی مدد نہیں ملی، حالانکہ ہم ان پر کھربوں ڈالر کا خرچہ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ویت نام میں 19 سال گزارے، عراق میں 12 سال گزارے، ایران میں صرف 6 ہفتے گزارے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اتنی دیر کیوں ہو رہی ہے؟

ٹرمپ نے مزید کہا کہ 20 لاکھ بیرل تیل لے کر ایک ٹینکر جا رہا تھا، اس کی کامیاب ناکہ بندی کی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہا تھا کہ  ان کے ملک کی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کے بحری محاصرے کے نفاذ کے لیے ’بحری قزاقوں کی طرح‘ عمل کر رہی ہے۔

انھوں نے یہ بیان گزشتہ چند روز کے دوران امریکی افواج کی جانب سے ایک جہاز کو تحویل میں لینے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے دیا۔

جمعہ کی شب ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے جہاز کو تحویل میں لیا، اس کا سامان حاصل کیا اور تیل پر بھی قبضہ کیا۔ یہ ایک نہایت منافع بخش کاروبار ہے۔ ہم قزاقوں کی طرح ہیں تقریباً انہی جیسے، لیکن ہم مذاق نہیں کر رہے۔‘

رپورٹ کے مطابق تہران سے منسلک بعض جہاز ایران کی بندرگاہوں سے نکلنے کے بعد ایشیائی پانیوں میں امریکی کارروائیوں کا نشانہ بنے، جہاں پابندیوں کا سامنا کرنے والے کنٹینر بردار جہازوں اور ایرانی آئل ٹینکروں کو بھی تحویل میں لیا گیا۔

جنگ کے آغاز سے ایران نے آبنائے ہرمز سے زیادہ تر جہازوں کی آمدورفت محدود کر دی ہے سوائے اپنے جہازوں کے۔ اس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی اور محاصرہ کا اعلان کیا تھا