آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کیلئے ایران سے عالمی سطح پر رابطے
بحری آمدورفت گزشتہ ماہ کے مقابلے میں کم ہو کر تقریباً نصف رہ گئی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کے سلسلے میں ایران سے رابطوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ کشیدگی کے باعث بحری آمدورفت گزشتہ ماہ کے مقابلے میں کم ہو کر تقریباً نصف رہ گئی ہے۔
خبر رساں ادارے نے ایرانی وزارتِ خارجہ کے معاون برائے اقتصادی سفارتکاری حمید قنبری کے حوالے سے بتایا کہ متعدد ممالک اپنے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کے لیے ایران سے بار بار رابطے کر رہے ہیں تاکہ تہران کی منظوری حاصل کی جا سکے۔
حمید قنبری کے مطابق مختلف ممالک تشویش اور فوری نوعیت کے پیغامات اور سفارتی مراسلوں کے ذریعے اپنی جہازرانی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ جاپان کے وزیرِ اعظم اس سے قبل ذاتی طور پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کر چکے ہیں، جس میں جاپانی تیل بردار جہازوں کی آبنائے ہرمز سے محفوظ انداز میں گزرنے کے حوالے سے بات چیت کی گئی تھی۔
فارس نیوز کے مطابق جاری کشیدگی کے تناظر میں رواں ماہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت گزشتہ ماہ کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد کم ہو چکی ہے اور اس وقت صرف وہی جہاز گزرنے کی اجازت رکھتے ہیں جنھیں ایران کی جانب سے اجازت نامہ حاصل ہو اور جو ایرانی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے متعین کردہ راستوں پر سفر کریں۔