غزہ میں 8 ہزار لاشیں ملبے تلے دبے ہونے کا انکشاف

صفائی میں 7 سال لگ سکتے ہیں ،اب تک صرف ایک فیصد سے بھی کم ملبہ صاف کیا جا سکا ہے، اقوام متحدہ اہلکار

               
  May 3, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

غزہ سٹی : غزہ میں دو سالہ بدترین اسرائیلی جارحیت کے بعد انسانی المیہ اس وقت مزید سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے جب ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اب بھی تقریباً 8,000 فلسطینیوں کی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے ایک عہدیدار کے حوالے سے عبرانی اخبار ‘ہاریتز’ نے بتایا کہ تباہی کا پیمانہ اس قدر وسیع ہے کہ اب تک صرف ایک فیصد سے بھی کم ملبہ صاف کیا جا سکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ میں تباہی کے مناظر اور وسائل کی کمی کے باعث بحالی کا کام انتہائی سست روی کا شکار ہے، موجودہ رفتار سے ملبہ ہٹانے اور لاشوں کی بازیابی کے عمل میں 7 سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

غزہ کا 90 فیصد سویلین انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جس میں گھر، سکول اور ہسپتال شامل ہیں۔اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک کے حالیہ تخمینوں کے مطابق غزہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے 70 ارب ڈالر سے زائد کی رقم درکار ہوگی۔

گزشتہ اکتوبر میں ہونے والے سیز فائر معاہدے کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق “اکتوبر سے اب تک سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں 828 فلسطینی شہید اور 2,342 زخمی ہو چکے ہیں۔

دو سال کے دوران 72,000 سے زائد افراد شہید اور 172,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں ، غزہ کی تقریباً تمام آبادی (90% سے زائد) نقل مکانی پر مجبور ہوئی۔

فلسطینی سول ڈیفنس حکام نے خبردار کیا ہے کہ بھاری مشینری اور ضروری آلات کی شدید قلت ہے، جس کی وجہ سے منہدم عمارتوں کے نیچے دبے اپنے پیاروں کی تلاش میں مصروف خاندانوں کا انتظار طویل ہوتا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک غزہ کی ناکہ بندی ختم کر کے بھاری سامان اور تعمیراتی مواد کی آزادانہ ترسیل شروع نہیں ہوتی، تب تک انسانی جانوں کا یہ زیاں اور ملبے تلے دبی زندگیوں (یا لاشوں) کا نکالنا ناممکن رہے گا۔