سیاحتی بحری جہاز پر نیاوائرس پھیلنے کے بعداموات سے عالمی سطح پر تشویش
عالمی ادارہ صحت کے مطابق جہاز پر کل 8 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں
تصویر: سوشل میڈیا
بحر اوقیانوس میں ایک سیاحتی بحری جہاز پر ہینٹا وائرس پھیلنے سے عالمی سطح پر تشویش پیدا ہو گئی ہے اور لوگوں میں ایک نئی مہلک وبا کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
جہازMV Hondiusپر ہینٹا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد اب تک 3 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق جہاز پر کل 8 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور یہ وائرس انسان سے انسان میں منتقل ہو رہا ہے۔
ہینٹا وائرس ایک خطرناک سانس کی بیماری ہے جو عام طور پر چوہوں جیسے جانوروں سے انسانوں میں پھیلتا ہے۔ شدید کیسز میں اس کی اموات کی شرح 40 فیصد تک ہو سکتی ہے۔
یہ جہاز ارجنٹائن سے انٹارکٹکا کے سفر پر تھا اور اس پر 147 مسافر سوار ہیں۔ جہاز فی الحال کیپ ورڈی کے قریب لنگر انداز ہے۔ مسافروں کو احتیاط کے طور پر اپنے کمروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اور جہاز پر صفائی اور دیگر اقدامات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس وائرس کا کرونا وائرس سے موازنہ کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ بھی سانس کی بیماری ہے اور تیزی سے پھیل رہا ہے۔ تاہم عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے واضح کیا ہے کہ اسے کرونا وائرس سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ ان کے مطابق فی الحال باقی دنیا کے لیے خطرہ کم ہے۔
اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ جہاز کو اسپین کے کینری جزائر پر لنگر انداز کرنے کے بعد مکمل وبائی تجزیہ کیا جائے گا اور تمام رابطوں کی نگرانی کی جائے گی۔
ماہرین صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، البتہ ابھی تک یہ پھیلاؤ صرف اس ایک جہاز تک محدود نظر آ رہا ہے۔