خلیج میں ہزاروں سمندری کارکن پھنس کر ذہنی دباؤ کا شکار۔فلاحی اداروں کا انتباہ

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کی براہِ راست زد میں بھی آ چکے

May 9, 2026 · بام دنیا

متعدد بحری فلاحی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ خلیجی خطے میں دو ماہ سے زائد عرصے سے پھنسے ہوئے ہزاروں سمندری کارکن شدید تنہائی، خوف اور ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی وجہ خطے میں جاری جنگی صورتحال ہے۔

کپتانوں، باورچیوں، انجینئرز اور دیگر افسران سمیت بحری عملہ نہ صرف مختلف مقامات پر محصور ہو کر رہ گیا ہے بلکہ بعض صورتوں میں وہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کی براہِ راست زد میں بھی آ چکے ہیں۔

بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق اب تک کم از کم 11 سمندری کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔

برطانیہ میں قائم فلاحی ادارے “سیلرز سوسائٹی” کے کرائسز ریسپانس نیٹ ورک کے سربراہ گیون لم نے بتایا کہ انہوں نے ایک ایسے جہاز کے عملے سے بات کی جس کا جہاز حملے کا نشانہ بنا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ عملے کے ارکان کو لگا کہ وہ مرنے والے ہیں۔

گیون لم کے مطابق سمندری کارکن ڈرونز اور میزائلوں کو اپنے سروں کے اوپر سے گزرتے دیکھتے ہیں جبکہ کئی جہاز حملوں کا شکار بھی ہو چکے ہیں، جس سے خوف اور بے چینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

فلاحی ادارے “دی سی فیئررز چیریٹی” کے مطابق 28 فروری سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث پھنسے تقریباً 20 ہزار سمندری کارکن شدید ذہنی دباؤ، تھکن، بے خوابی، تنہائی، ڈپریشن اور اضطراب جیسے مسائل کا شکار ہیں۔