امریکہ اور ایران کے تعلقات میں تناؤ۔اہم معاملات پر ڈیڈ لاک برقرار
ایران نے امریکی ناکہ بندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا مطالبہ بھی کیا
فائل فوٹو
ایرانی ذرائع کے مطابق تہران نے موجودہ بحران کے حل کے لیے تین مرحلوں پر مشتمل حکمت عملی پیش کی ہے۔
پہلے مرحلے میں ایران نے 30 روز کے لیے تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کی تجویز دی ہے۔ “تمام محاذوں” سے مراد لبنان میں حزب اللہ بھی ہے۔
یہ معاملہ امریکہ کے لیے مشکل تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ حزب اللہ کے مستقبل کا فیصلہ ایران نہیں کر سکتا۔
تاہم ایران اس بات پر زور دے رہا ہے کہ خطے میں اس کے اتحادی غیر ریاستی گروہوں کو بھی سکیورٹی ضمانتیں دی جائیں۔
ایران یہ ضمانت بھی چاہتا ہے کہ جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوگی۔
یہ مطالبہ بھی امریکہ کے لیے پیچیدہ ہے کیونکہ ایران کا اصرار ہے کہ ایسی ضمانت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے دی جائے۔
ایران نے امریکی ناکہ بندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
تاہم آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کا مؤقف ہے کہ خطے کی اسٹریٹجک صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور ایران کسی بھی صورت جنگ سے پہلے والی صورتحال بحال نہیں ہونے دے گا بلکہ آبنائے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔
یہ شرط بھی امریکہ اور خطے کے کئی ممالک کے لیے قابل قبول نہیں سمجھی جا رہی۔
دوسری جانب ایران اپنے جوہری تنصیبات ختم کرنے اور پہلے سے افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے پر بھی آمادہ نہیں۔
یہی نکات اس وقت دونوں فریقین کے درمیان بڑے اختلافات سمجھے جا رہے ہیں۔