آبنائے ہرمز میں جنگی جہازوں کی موجودگی سے بحران بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ایران
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مذاکرات کا مقصد قومی حقوق کی جنگ لڑنا ہے، کسی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کے سامنے جھکنا ایران کی تاریخ نہیں اور سفارتی کوششوں کا واحد مقصد ایرانی مفادات کا دفاع کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں کی غیرقانونی ناکہ بندی جاری ہے جو واضح طور پر معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے اردگرد جنگی بحری جہازوں کی تعیناتی خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کی عسکری موجودگی بحران میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔