کراچی میں سولر پینلز کے اوسط ریٹس 40 سے 43 روپے فی واٹ ہیں
عالمی مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے بعد اب استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث پاکستان میں بھی سولر سسٹمز لگوانے کے رجحان میں اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں روپے کی نسبتاً مستحکم صورتحال نے صارفین کیلئے شمسی توانائی پر منتقل ہونے کا موزوں موقع پیدا کر دیا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق چین میں TOPCon سولر سیلز کی قیمت تقریباً 0.0486 ڈالر فی واٹ پر برقرار ہے، جو رواں سال مارچ کے مقابلے میں نمایاں کمی ظاہر کرتی ہے۔ پاکستانی مارکیٹ میں اس وقت معروف برانڈز کے N-Type اور TOPCon پینلز 40 سے 46 روپے فی واٹ کے درمیان فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ 580 سے 600 واٹ کے پینلز کی قیمت 23 ہزار سے 28 ہزار روپے تک دیکھی جا رہی ہے۔
کراچی میں سولر پینلز کے اوسط ریٹس 40 سے 43 روپے فی واٹ، لاہور میں 41 سے 44 روپے جبکہ اسلام آباد میں 42 سے 46 روپے فی واٹ ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں سپلائی بڑھنے سے قیمتوں میں مزید معمولی کمی کا امکان موجود ہے، تاہم خام مال کی قیمتیں نچلی سطح پر پہنچنے کے باعث بڑی کمی کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال گھریلو اور تجارتی صارفین کیلئے سولر سسٹم نصب کرنے کا مناسب وقت ہے۔ انہوں نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف معیاری “ٹیر ون” برانڈز اور وارنٹی والے پینلز خریدیں تاکہ بہتر کارکردگی اور طویل المدتی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔