آبنائے ہرمز کھلنے کے باوجود مارکیٹ کی بحالی میں وقت لگے گا۔ آرامکو سربراہ
ایک ارب بیرل تیل کی کمی سے عالمی منڈی کی بحالی کا عمل مزید سست ہوجائےگا۔
تیل کی بڑی کمپنی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امین ناصر کا کہنا ہے کہ اگر آج آبنائے ہرمز کھول دی جائے تو بھی مارکیٹ کو دوبارہ توازن حاصل کرنے میں مہینے لگیں گے۔
انھوں نے ایک تقریب میں سرمایہ کاروں سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر اس کے کھلنے میں چند ہفتوں کی مزید تاخیر ہوئی تو معمول پر آنے کا عمل 2027 تک جاری رہے گا۔
امین ایچ ناصر نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کی جنگ کے دوران عالمی منڈی اب تک تقریباً ایک ارب بیرل تیل سے محروم ہوچکی ہے۔
اس صورتحال کے سبب توانائی کی عالمی منڈی کو معمول پر واپس آنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ایک ارب بیرل تیل کی کمی سے عالمی منڈی کی بحالی کا عمل مزید سست ہوجائے گا۔
دبئی میں جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر تیل کی ترسیل دوبارہ بحال بھی ہو جائے تب بھی مارکیٹ کو مستحکم ہونے میں وقت درکار ہوگا کیونکہ طویل عرصے سے کم سرمایہ کاری اور محدود ذخائر نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امین ناصر نے بتایا کہ آرامکو نے آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن استعمال کی، جس کے ذریعے خام تیل کو بحیرہ احمر تک منتقل کیا گیا، ان کے بقول یہ پائپ لائن عالمی سپلائی بحران کے دوران ایک “اہم لائف لائن” ثابت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی کا بنیادی مقصد توانائی کی فراہمی کو ہرحال میں جاری رکھنا ہے، چاہے عالمی نظام شدید دباؤ کا شکار ہی کیوں نہ ہو۔
سعودی آرامکو چیف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی تجارتی راستوں میں تبدیلیوں کے باوجود ایشیا کمپنی کے لیے سب سے اہم مارکیٹ ہے کیونکہ مستقبل میں توانائی کی طلب کا بڑا مرکز ایشیائی خطہ ہی رہے گا۔