تہران: جنگ سے متاثرہ 80 فیصد علاقوں کی بحالی مکمل، تعمیرِ نو کا عمل تیزی سے جاری
امریکی اور اسرائیلی حملوں میں تہران صوبے کے 60,000 سے زائد رہائشی اور تجارتی یونٹس کو نشانہ بنایا گیا، ڈپٹی گورنر
فائل فوٹو
تہران: ایران کے دارالحکومت تہران میں حالیہ جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے بعد بحالی کا کام تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق، تہران کے جنگ زدہ علاقوں کا تقریباً 80 فیصد حصہ مرمت اور بحال کر دیا گیا ہے۔
تہران کے ڈپٹی گورنر، سید کمال الدین میر جعفریان نے میڈیا کو بتایا کہ “تیسری مسلط کردہ جنگ” کے دوران تہران صوبے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔
ان کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں میں تہران صوبے کے 60,000 سے زائد رہائشی اور تجارتی یونٹس کو نشانہ بنایا گیا۔حملوں میں پل، بندرگاہیں، ریلوے نیٹ ورک، پاور پلانٹس اور پانی صاف کرنے والے (ڈیسیلینیشن) پلانٹس براہ راست متاثر ہوئے۔بڑی تعداد میں جامعات، تحقیقی مراکز، ہسپتالوں اور اسکولوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شروع ہونے والی اس جنگ نے ایرانی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ابتدائی اندازوں کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کو مجموعی طور پر تقریباً 270 ارب ڈالر کا براہ راست اور بالواسطہ نقصان پہنچا ہے۔”
ڈپٹی گورنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت شہریوں کی زندگیوں کو معمول پر لانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ جہاں 80 فیصد تہران کی بحالی کا دعویٰ کیا گیا ہے، وہی باقی ماندہ علاقوں میں بھی تعمیرِ نو کا کام آخری مراحل میں ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہری گھروں اور عوامی سہولیات کی فراہمی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ جنگ کے اثرات کو جلد از جلد ختم کیا جا سکے۔