امریکی برتری اوراستثنیٰ کااحساس ختم کرنے کی کوششیں تیزہونی چاہییں، ایران

عباس عراقچی نے برکس ملکوں سے ایران مخالف امریکی، اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کا مطالبہ کیا

May 14, 2026 · بام دنیا

اس اجلاس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی اس کارروائی کی مذمت کریں

 

 ایران نے برکس ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تہران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کی مذمت کریں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے رکن ممالک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیاں ’’غیر قانونی جارحیت‘‘ کے مترادف ہیں، جنہوں نے خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ برکس ممالک اور دیگر ریاستوں کو چاہیے کہ وہ ’’جنگی جنون‘‘ روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں اور ایسے اقدامات کریں جو ان کے بقول اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں پر مبنی ’’استثنیٰ‘‘ کے خاتمے میں مددگار ہوں۔

انہوں نے برکس ممالک پر زور دیا کہ بین الاقوامی اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران، برکس کی جانب سے حمایت کے اظہار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تاہم موجودہ صورتحال مزید مضبوط اور واضح اقدامات کی متقاضی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ہم سب امریکہ کی برتری اور استثنیٰ کے اس احساس کو ختم کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں، کیونکہ آج کی دنیا میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔

اجلاس سے قبل بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ برکس وزرائے خارجہ کے مذاکرات میں عالمی اور علاقائی چیلنجز، اقتصادی صورتحال اور رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بات کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ برکس ممالک ترقی پذیر دنیا کو درپیش مسائل، خصوصاً صحت، مالیاتی دباؤ، توانائی، خوراک اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی معاشی دباؤ اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی رقابت نے بین الاقوامی سفارت کاری کو مزید اہم بنا دیا ہے۔