اسرائیل کا نیویارک ٹائمز کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ کرنے کا فیصلہ
یہ رپورٹ مغربی کنارہ سے تعلق رکھنے والے 14 مرد و خواتین کے بیانات پر مبنی ہے،دورانِ حراست اسرائیلی اہلکاروں اور آباد کاروں نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔
فائل فوٹو
تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر خارجہ جدعون سار نے امریکی اخبار ‘دی نیویارک ٹائمز’ کے خلاف باقاعدہ ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ یہ غیر معمولی فیصلہ اخبار میں شائع ہونے والے ایک ایسے مضمون کے جواب میں کیا گیا ہے جسے اسرائیل نے “من گھڑت اور بے بنیاد” قرار دیا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے پیر کے روز ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی جیلوں کے گارڈز اور فوجیوں نے فلسطینی قیدیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
اخبار کے مطابق یہ رپورٹ مغربی کنارہ سے تعلق رکھنے والے 14 مرد و خواتین کے بیانات پر مبنی ہے، جنہوں نے الزام لگایا کہ دورانِ حراست اسرائیلی اہلکاروں اور آباد کاروں نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ایسی رپورٹ سامنے آئی ہو؛ اس سے قبل بھی کئی سابق فلسطینی قیدی اسرائیلی حراست میں ناروا سلوک اور جنسی تشدد کی شکایات کر چکے ہیں۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ریاستِ اسرائیل کے خلاف “جدید صحافت کے بدترین اور غلیظ ترین جھوٹ” سے تعبیر کیا ہے۔
ترجمان اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ نیویارک ٹائمز کا یہ مضمون نہ صرف حقائق کو مسخ کرتا ہے بلکہ اسرائیل کی ساکھ کو عالمی سطح پر نقصان پہنچانے کی ایک منظم کوشش ہے ۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایک بڑے بین الاقوامی ادارے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا مقصد میڈیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ سیکیورٹی فورسز پر لگنے والے سنگین الزامات کو خاموشی سے قبول نہیں کرے گا۔ تاہم، قانونی ماہرین کے مطابق بین الاقوامی سطح پر ہتکِ عزت ثابت کرنا ایک مشکل اور طویل عمل ہو سکتا ہے۔