ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے نیا پروٹوکول نافذ کر دیا

جہازوں کو گزرنے سے پہلے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا ، سرکاری میڈیا

May 14, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

تہران : ایرانی حکام نے دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے ایک نیا باقاعدہ ‘پروٹوکول’ نافذ کرنا شروع کر دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں ایک “نئی مساوات” قائم کرنے کی کڑی ہے، جس کا مقصد آبنائے کو مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے اسے اپنی شرائط پر کنٹرول کرنا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ایک اعلیٰ اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ بدھ کی شام سے اب تک تقریباً 30 بحری جہاز اس نئے نظام کے تحت آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔ ان تمام جہازوں نے ایرانی بحریہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کی اور وضع کردہ طریقہ کار پر عمل درآمد یقینی بنایا۔

رپورٹ کے مطابق گزرنے والے جہازوں میں چینی بحری جہاز بھی شامل ہیں جنہیں تہران اور بیجنگ کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں کے بعد راستہ دیا گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان، عراق اور جاپان جیسے ممالک کے حوالے سے بھی اطلاعات ہیں کہ وہ اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے تہران کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

اس نئے نظام کو قانونی شکل دینے کے لیے ایران نے پرسین گلف اسٹریٹ اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے۔جہازوں کو گزرنے سے پہلے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔عملے کی قومیت، کارگو کی تفصیل اور منزل مقصود کے بارے میں ‘ویسل انفارمیشن ڈیکلریشن’ جمع کرانا ہوگی۔

بعض رپورٹس کے مطابق ایران نے اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر ٹرانزٹ فیس بھی عائد کر دی ہے۔