برطانیہ میں سیاسی ہلچل میں اضافہ ، وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ بھی مستعفی
ان حالات میں حکومت کا حصہ رہنا سراسر بے ایمانی اور بے عزتی ہوگی ،ویس اسٹریٹنگ
فائل فوٹو
لندن؛ برطانیہ میں سیاسی ہلچل بڑھنے لگی ہے، وزیراعظم سرکیئر اسٹارمر کی کابینہ میں شامل وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ نے بھی استعفیٰ دے دیا۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ان حالات میں حکومت کا حصہ رہنا سراسر بے ایمانی اور بے عزتی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے وزیراعظم اسٹارمر کی قیادت پر اعتماد نہیں رہا اور یہ واضح ہو چکا ہے کہ اسٹارمر لیبر پارٹی کو آئندہ عام انتخابات تک نہیں لے جا سکیں گے۔
اپنے خط میں انھوں نے کہا کہ این ایچ ایس اب ’بحالی کے راستے پر ہے‘، تاہم اس کے باوجود انھوں نے وزیراعظم کی قیادت پر شدید تنقید کی۔
ویس سٹریٹنگ کے مطابق حالیہ انتخابات میں لیبر پارٹی کو ہونے والی شکست غیر معمولی تھی اور اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی غیر مقبولیت اس ناکامی کی بڑی وجہ بنی جبکہ کچھ پالیسی فیصلے، جیسے سرمائی فیول الاؤنس میں کٹوتی، بھی عوامی ناراضی کا سبب بنے۔
انھوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ برطانیہ میں قوم پرست سیاست کے بڑھتے اثرات ملک کے اتحاد اور اقدار کے لیے خطرہ بن رہے ہیں، اور ان کے بقول لیبر پارٹی عوام کو یہ یقین دلانے میں ناکام رہی ہے کہ وہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹ سکتی ہے۔
خیال رہے کہ ویس اسٹریٹنگ کیئر اسٹارمر کی لیڈرشپ کو چیلنج کرنے والے بڑے گروپ کو لیڈ کر رہے ہیں۔اس سے قبل بھی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کی کابینہ کے چار وزرا مستعفیٰ ہوچکے ہیں۔