خواتین ڈرگ ڈانز: ملکہ وکٹوریہ سے کراچی کی ‘پنکی’ تک کا سفر
گریزیلڈا بلانکو نے 400 افراد کی بھی جان لی- سالانہ تین ٹن کوکین امریکہ اسمگل کرتی- تاریخ کی سب سے بڑی ڈرگ ڈان ملکہ وکٹوریہ تھی-
فائل فوٹو
تاریخ کی سب سے بڑی ڈرگ ڈان ملکہ وکٹوریہ تھی، جس نے ریاستی سرپرستی میں منشیات فروشی کے عالمی نیٹ ورک کی بنیاد رکھی۔
عالمی میڈیا پر کراچی میں کوکین کوئن پنکی کی گرفتاری کے بعد خواتین کی ڈرگ سنڈیکٹس سے وابستگی کے حوالے سے مسلسل رپورٹنگ کی جارہی ہے۔ ان رپورٹس سے معلوم ہوا کہ منشیات کی اسمگلنگ میں خواتین کا کردار کوئی نیا نہیں۔ بلکہ اس نیٹ ورک کی موجد ملکہ وکٹوریہ کو قرار دیا جاتا ہے۔ جو افیون کی اسمگلر ہونے کے ساتھ ساتھ اس نشے کی عادی بھی تھی۔ انیسویں صدی میں ہی تاج پوشی کے بعد انہوں برطانوی سلطنت کے معاشی تحفظ کیلئے افیون کی تجارت کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کیا۔
ملکہ وکٹوریہ کے دورِ حکومت میں ہندوستان سے چین تک افیون کی منظم اسمگلنگ نے برطانوی معیشت کو سہارا دیا۔ برطانیہ نے تجارتی خسارہ پورا کرنے کیلئے ہندوستان میں زبردستی افیون اگائی اور اسے چین میں اسمگل کیا۔ جب چین نے مزاحمت کی تو برطانیہ نے افیون کی جنگیں مسلط کردیں اور اپنی معیشت کو تحفظ دینے کیلئے کروڑوں زندگیاں دائو پر لگائیں۔ اس کی منشیات کی سلطنت اتنی وسیع تھی کہ اس کے سامنے پابلو اسکوبار اور الچاپو جیسے بڑے ڈرگ لارڈز بھی محض معمولی ڈیلر نظر آتے۔
اسے چھپنے یا ٹیکس چوری کی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ اس کی منشیات کی کمائی سے ملک چل رہا تھا اور قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے اس کے تابع تھے۔ ملکہ وکٹوریہ منشیات کی شوقین تھیں۔ وہ روزانہ افیون اور الکحل کا آمیزہ (لاڈانم) پیتیں۔ جبکہ طبی مشورے پر کوکین اور بھنگ کا استعمال بھی معمولات کا حصہ تھا۔ ملکہ وکٹوریہ کے بعد منشیات کی دنیا میں سب سے زیادہ ابھرنے والی کولمبین خاتون گریزیلڈا بلانکو تھی۔
اسے منشیات کی دنیا میں کوکین گاڈ مدر سے بھی جانا جاتا تھا۔ گریزیلڈا بلانکو نے کوکین کے ذریعے وسیع سلطنت قائم کی اور وہ 1970ء اور 80ء کی دہائیوں میں میامی میں ہونے والی خونی منشیات کی جنگوں کی مرکزی شخصیت تھی۔ اس نے اپنے منظم دھندے کیلئے اپنے تین شوہر قتل کیے۔ جس کے بعد وہ بلیک وِڈو کے نام سے مقبول ہوئی۔
اس پر منشیات فروشی کے علاوہ چار سو افراد کے قتل کا بھی الزام تھا۔ وہ گرفتار بھی ہوئی لیکن اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے جلد رہا ہوگئی۔ تاہم 2012ء میں اسی کے کارندے اسے گولی مار کر ہلاک کردیا۔ گریزیلڈا بلانکو سالانہ تین ٹن سے زیادہ کوکین امریکہ اسمگل کرتی تھی۔ جس سے ماہانہ تقریباً 80 ملین ڈالر حاصل ہوتے۔
اسی طرح برطانیہ میں گینگسٹر نانی کے نام سے مشہور 65 سالہ ڈیبورا میسن کی سربراہی میں چلنے والے ایک خاندانی منشیات گروہ کو 80 ملین پاؤنڈ مالیت کی کوکین فروخت کرنے پر مجموعی طور پر طویل قید کی سزائیں سنا دی گئی ہیں۔ کوئین بی کہلانے والی میسن نے اپنے بچوں، بہن اور دیگر رشتہ داروں پر مشتمل ایک منظم نیٹ ورک بنا رکھا تھا۔ جس نے محض سات ماہ کے دوران لندن سمیت برطانیہ کے مختلف شہروں میں تقریباً ایک ٹن منشیات اسمگل کی۔ اس گروہ کی انفرادیت یہ تھی کہ اس میں شامل نوجوان مائیں گرفتاری سے بچنے کیلئے منشیات کی ترسیل کے دوران اپنے چھوٹے بچوں کو بھی ساتھ رکھتی تھیں۔
برطانوی عدالت نے گروہ کی سرغنہ ڈیبورا میسن کو 20 برس اور دیگر ارکان کو طویل قید کی سزائیں سنائیں۔ دوسری جانب صحافی ڈیبورا بونیلو کی کتاب نارکاس لاطینی امریکہ کے ڈرگ کارٹلز میں خواتین کے پسِ پردہ کردار کو بے نقاب کرتی ہے۔ مصنفہ کے مطابق کارٹلز میں اعلیٰ عہدوں پر فائز یہ خواتین خودمختار فیصلہ ساز ہیں۔ ان میں سے کئی قانون اور بزنس کی ڈگریاں رکھتی ہیں اور ان کی انتظامی صلاحیتیں کسی بھی بڑی عالمی کمپنی کو چلانے کے برابر ہیں۔
مصنفہ کے مطابق طاقت کا معیار صرف تشدد نہیں۔ اسی لیے خواتین قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے اوجھل رہ کر طویل عرصے تک بڑے نیٹ ورکس چلانے میں کامیاب رہتی ہیں۔
کرشما ویب سائٹ کے مطابق 2026ء میں منشیات کی تجارت میں خواتین کی شمولیت میں گزشتہ پانچ برسوں کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رواں برس نائجیریا، میکسیکو اور برطانیہ میں کی جانے والی بڑی بین الاقوامی کارروائیوں کے دوران 15 سے زائد ایسی خواتین کو گرفتار کیا گیا، جو عالمی نیٹ ورکس کی نگران تھیں۔ اپریل 2026ء میں نائجیریا کی NDLEA اور امریکی DEA کی مشترکہ کارروائی میں جیسنٹا امارا ایکیچی اور بلیسنگ نگوزی عمادی کی گرفتاری اس سلسلے کی سب سے بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ جنہوں نے یورپ اور افریقہ کے درمیان اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ اور کوکین کی ترسیل کا نیٹ ورک سنبھال رکھا تھا۔
موجودہ دور میں خواتین ڈرگ ڈیلرز کے سب سے مضبوط مراکز لاطینی امریکہ (میکسیکو، کولمبیا)، مغربی افریقہ (نائجیریا) اور جنوب مشرقی ایشیا ہیں۔ میکسیکو میں خالیسکو نیو جنریشن کارٹل (CJNG) کی روزالینڈا گونزلیز ویلنسیا اور سینالوا کارٹل کی گواڈالوپے فرنانڈیز ویلنسیا جیسے ناموں نے ثابت کیا کہ وہ کارٹلز کے معاشی ڈھانچے کی اصل معمار ہیں۔ لاطینی امریکہ میں خواتین اب براہِ راست اسپانسرز اور لاجسٹک مینجرز کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ جبکہ ایشیا اور یورپ میں وہ زیادہ تر منی لانڈرنگ اور ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے منشیات کے پیسے کو قانونی شکل دینے کے پیچیدہ نظام چلا رہی ہیں۔
اطینی امریکہ کے اعلیٰ سطح کے کارٹلز میں شامل بااثر خواتین سالانہ 500 ملین سے 1.2 بلین ڈالر تک کے فنڈز مینیج کرتی ہیں۔ یہ خواتین اپنی آمدنی کا بڑا حصہ فرضی کمپنیوں، ریئل اسٹیٹ اور کرپٹو والٹس میں چھپاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی مجموعی دولت کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔
بھارت کے انڈر ورلڈ اور منشیات کی غیر قانونی تجارت میں بھی خواتین کا کردار نمایاں ہے۔ ماضی میں ممبئی کی بیبی پتَنکر جیسی خواتین نے میفیڈرون (Mephedrone) جیسی مہلک منشیات کی خرید و فروخت کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔ جبکہ حسینہ پارکر نے اپنے خاندانی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے انڈر ورلڈ کے کالے دھندے کی نگرانی کی۔ یہ خواتین سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی اپنا اثر و رسوخ رکھتی تھیں۔ جس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے ان کے خلاف کارروائی کرنا بڑا چیلنج رہا۔ حالیہ برسوں میں یہ رجحان تیزی سے بدل رہا ہے اور اب نوجوان لڑکیاں بھی اس خطرناک کاروبار میں ملوث پائی جا رہی ہیں۔
2026ء میں کشمیر کی تمانا اشرف کی گرفتاری ہوئی، جو ممبئی چرس اسمگل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ جبکہ دہلی میں ایک 19 سالہ لڑکی کا ہیروئن کے ساتھ پکڑا جانا اس بات کی علامت ہے کہ منشیات کے عالمی نیٹ ورکس اب خواتین کو سافٹ ٹارگٹ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ کیرالہ اور بنگلور جیسے شہروں میں خواتین کو بطور کیریئر استعمال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ان پر شک کی گنجائش مردوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ اسی کا فائدہ اٹھا کر ایم ڈی ایم اے اور کوکین کی ترسیل پوش علاقوں اور تعلیمی اداروں تک کی جاتی ہے۔
پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ کے کالے دھندے میں خواتین کی شمولیت ایک خطرناک اور بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ جس نے حالیہ برسوں میں سیکورٹی اداروں کو چونکا دیا ہے۔ حالیہ مثال انمول عرف پنکی کی ہے۔ جسے مئی 2026ء میں کراچی سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق پنکی کراچی میں کوکین سپلائی کرنے والے سب سے بڑے نیٹ ورک کی سرغنہ تھی۔ جو ڈی ایچ اے اور کلفٹن جیسے پوش علاقوں میں آن لائن آرڈرز اور خواتین رائیڈرز کے ذریعے یومیہ لاکھوں روپے کی منشیات فروخت کرتی تھی۔ اس کے خلاف 14 سے زائد مقدمات درج ہیں اور اس کا جال پنجاب تک پھیلا ہوا تھا۔
پاکستان میں خواتین ڈرگ ڈیلرز کی گرفتاریوں میں گزشتہ دو دہائیوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) اور صوبائی پولیس کی حالیہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ تعلیمی اداروں اور بڑے شہروں میں منشیات کی رسائی کیلئے خواتین کو اس لیے ترجیح دی جاتی ہے کہ ان پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا شک کم ہوتا ہے۔
پنجاب میں حالیہ کریک ڈاؤن کے دوران درجنوں ایسی خواتین کو گرفتار کیا گیا جو ہیروئن اور آئس (Crystal Meth) کی بین الصوبائی اسمگلنگ میں ملوث تھیں۔