آبنائے ہرمزکا معاملہ حل نہ ہونے پر یورپی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی

عالمی مارکیٹ میں توانائی کی سپلائی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا۔

May 15, 2026 · بام دنیا
فوٹو سوشل میڈیا

فوٹو سوشل میڈیا

پیرس/فرینکفرٹ : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں ایران اور امریکہ-اسرائیل جنگ کے باعث پیدا ہونے والے آبنائے ہرمز کے بحران پر کوئی بڑا بریک تھرو نہ ہونے کے بعد یورپی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی گئی ہے۔

عالمی مارکیٹ میں توانائی کی سپلائی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بیجنگ میں دونوں عالمی رہنماؤں کے مابین تفصیلی بات چیت کے باوجود آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کو کم کرنے کے حوالے سے کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آ سکا۔ اس سفارتی ڈیڈ لاک کا براہِ راست اثر عالمی مالیاتی منڈیوں پر پڑا، اور یورپی کاروباری ہفتے کے اختتام پر تمام بڑی اسٹاک مارکیٹیں خسارے کے ساتھ بند ہوئیں۔

یورپی مارکیٹوں کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پیرس اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس میں 1.60 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

فرینکفرٹ اسٹاک ایکسچینج جرمن مارکیٹ سب سے زیادہ متاثر ہوئی، جہاں انڈیکس 2.07 فیصد گر گیا۔

لندن اسٹاک ایکسچینج میں برطانوی مارکیٹ بھی دباؤ کا شکار رہی اور اس میں 1.71 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔

میلان اسٹاک ایکسچینج میں  اطالوی انڈیکس میں 1.87 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ-اسرائیل اور ایران تنازع کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو رہی ہے، جس سے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بڑھنے اور مہنگائی کی نئی لہر آنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

ٹرمپ اور شی جن پنگ کے مذاکرات میں کسی واضح پیش رفت کی عدم موجودگی نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو مزید ہوا دی ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی تلاش میں ہیں اور اسٹاک مارکیٹ سے سرمایہ نکال رہے ہیں۔