عدالتی فیصلے کے بعدمدھیہ پردیش کی تاریخی کمال مولا مسجد میں مورتی نصب
مدھیہ پردیش ہائیکورٹ کے فیصلے پر مسلمانوں میں شدید تشویش اور ردعمل
مدھیہ پردیش ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ہندوؤں نے بھوج شالا یادگار کے اندر مذہبی رسومات ادا کیں، عدالت نے دھار کی کمال مولہ مسجد کو ہندوؤں کا مذہبی مقام قرار دیا۔
بھارت کی مدھیہ پردیش ہائیکورٹ نے تاریخی کمال مولامسجد کو ہندو دیوی سے منسوب مندر قرار دیتے ہوئے ہندوؤں کو وہاں عبادت کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے مسلم فریق کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متنازع مقام بھوج شالا کمپلیکس دراصل دیوی واگ دیوی کا مندر ہے۔
مدھیہ پردیش کے شہر دھار میں واقع 13ویں اور 14ویں صدی کے اس تاریخی مقام پر کئی دہائیوں سے تنازع جاری تھا۔ 78 سالہ محمد رفیق، جو گزشتہ 50 برس سے مسجد میں موذن کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے، نے کہا کہ یہ مسجد ان کیلئے دوسرے گھر جیسی تھی۔ ان سے قبل ان کے دادا حافظ نظیرالدین بھی برطانوی دور سے یہاں نماز پڑھاتے رہے تھے۔
2003 کے ایک معاہدے کے تحت آثار قدیمہ کے بھارتی ادارے اے ایس آئی نے ہندوؤں کو ہر منگل اور مسلمانوں کو جمعہ کے روز عبادت کی اجازت دی تھی۔ تاہم حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد مسلمانوں کو مسجد میں عبادت سے روک دیا گیا ہے جبکہ ہندو عبادت گزار بڑی تعداد میں وہاں جمع ہوئے۔
اتوار کے روز کمپلیکس میں زعفرانی جھنڈے لہرائے گئے، ہندو قوم پرست کارکنوں نے عارضی مورتی بھی نصب کی۔ سکیورٹی کیلئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اے ایس آئی کے دو سال قبل کیے گئے سروے پر انحصار کیا، تاہم مسلم فریق نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مسلم وکلا کا مؤقف ہے کہ 1935 کے برطانوی دور کے سرکاری نوٹیفکیشن میں واضح طور پر اس مقام کو مسجد قرار دیا گیا تھا اور مسلمانوں کو عبادت کی اجازت دی گئی تھی۔
بھارتی مؤرخ آڈرے ٹرشکے نے کہا کہ بھارت میں مساجد کو نشانہ بنانے کا رجحان ہندو قوم پرستی کے تحت بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق سیاسی بنیادوں پر کیے گئے سروے عالمی تحقیقی معیار پر پورا نہیں اترتے۔
عدالت نے بھارتی حکومت کو یہ بھی ہدایت کی کہ لندن کے برٹش میوزیم میں موجود دیوی واگ دیوی کے مجسمے کو واپس لانے پر غور کیا جائے۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ یہ مجسمہ اسی مقام سے تعلق رکھتا ہے، تاہم مسلم فریق کے وکیل اشعر وارثی نے اس دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاریخی ریکارڈ کے مطابق مجسمہ کمال مولا مسجد سے نہیں بلکہ سٹی پیلس کے کھنڈرات سے ملا تھا۔