معاہدہ نہ ہوا تو دو تین دن بعد ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتے ہیں ، ٹرمپ
معاہدے کے لیے تہران کے پاس اب بہت محدود وقت ہے ، میڈیا سے گفتگو
فائل فوٹو
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکام امریکا کے ساتھ معاہدہ (ڈیل) کرنے کے لیے منتیں کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکی افواج آئندہ چند دنوں میں ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ وہ ایران پر ایک نئے حملے کی منظوری دینے کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے، لیکن آخری لمحات میں انہوں نے یہ کارروائی مؤخر کر دی۔
صدر کا کہنا تھا میں آج (کارروائی کا) فیصلہ کرنے سے محض ایک گھنٹہ دور تھا، لیکن ہمارے مذاکرات کاروں نے بتایا کہ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے اور ایرانی حکام نے مزید کچھ دن مانگے ہیں، جس پر میں نے فی الحال حملہ روک دیا۔
امریکی صدر نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے واضح کیا کہ معاہدے کے لیے تہران کے پاس اب بہت محدود وقت ہے۔ انہوں نے حملے کی ممکنہ ٹائم لائن بتاتے ہوئے کہا میں صرف دو یا تین دن کی بات کر رہا ہوں، شاید جمعہ، ہفتہ، اتوار یا پھر اگلے ہفتے کے آغاز تک کا محدود وقت۔
امریکی صدر نے کہاکہ ہم ایران کو کسی بھی صورت نیا جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ بیجنگ ایران کو کسی قسم کے ہتھیار یا فوجی سازوسامان فراہم نہیں کر رہا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایران کو کوئی ہتھیار نہیں بھیج رہے، یہ ایک خوبصورت وعدہ ہے۔ میں ان کی بات پر یقین کرتا ہوں اور میں نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔