خودکشی کی کوشش کو جرم نہ قرار دینےوالا قانون کالعدم ۔وفاقی شرعی عدالت

وفاقی شرعی عدالت نے پارلیمان کی قانون سازی کو اسلامی اصولوں کے خلاف قرار دیا

May 20, 2026 · قومی

فائل فوٹو

پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے خودکشی کی کوشش کو جرم نہ قرار دینے سے متعلق پارلیمان کی قانون سازی کو اسلامی اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا۔

فیڈرل شریعت کورٹ نے یہ حکم پارلیمان سے منظور ہونے والی قانون سازی کے خلاف دائر درخواستوں پر دیا۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے 2022 میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 325 میں ترمیم کی تھی، جس میں خودکشی کی کوشش کو جرم کی فہرست سے خارج کیا گیا تھا اور قانون کے مطابق اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جانی تھی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، اور ماضی میں خودکشی کی کوشش کو جرم قرار دینے کا مقصد لوگوں کو اس عمل سے روکنا اور قانونی کارروائی کے خوف سے بچانا تھا۔

فیڈرل شریعت کورٹ نے مزید کہا کہ کئی مسلم ممالک میں خودکشی کی کوشش کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے اور محض ذہنی بیماری کی بنیاد پر اس قانون کو ختم کرنے کا جواز نہیں بنتا۔

سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار پیش کیے گئے، جن کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد خودکشی کرتے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ ذہنی بیماری ہے۔

ٹیگز: