ایران-امریکہ مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود دو نکات پر تعطل برقرار ہے، عباس عراقچی
ایران کے یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے اہم معاملات پر اب بھی تعطل برقرار ہے۔ایکس پر پیغام
فائل فوٹو
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں کچھ مثبت اشارے ضرور ملے ہیں، تاہم ایران کے یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے اہم معاملات پر اب بھی تعطل برقرار ہے۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک سلسلہ وار پیغامات میں کہا کہ موجودہ کشیدہ صورتحال کے باوجود بات چیت کے عمل میں ’محتاط امید‘ پائی جاتی ہے، تاہم ان کے بقول سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو منظم کرنے کے لیے ایک نئی بحری اتھارٹی قائم کی ہے، اور ایک نقشہ بھی جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق ایران نے متحدہ عرب امارات کے قریب واقع سمندری حدود تک اپنا کنٹرول بڑھا دیا ہے، جہاں سے گزرنے والے جہازوں کے لیے پیشگی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق مذاکراتی عمل میں دو بڑی رکاوٹیں درپیش ہیں۔ ایک جانب امریکہ فوری طور پر جوہری پروگرام پر بات چیت چاہتا ہے، جبکہ ایران اس سے قبل 30 روزہ اعتماد سازی کا وقت دینے پر زور دے رہا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں فیس یا ٹول سسٹم کے قیام پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کا حتمی مسودہ تیار ہو چکا ہے، تاہم یہ دو بڑے نکات اب بھی کسی حتمی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ان کے مطابق اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے ’واضح مؤقف، سمجھوتہ اور فیصلہ کن اقدامات‘ ضروری ہیں، اور انھوں نے خبردار کیا کہ ان معاملات کو حل نہ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 35 جہاز، جن میں آئل ٹینکرز، کنٹینر جہاز اور دیگر تجارتی بحری جہاز شامل ہیں، ایرانی حکام کی اجازت سے آبنائے ہرمز سے گزرے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس عمل کو پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی نگرانی میں منظم کیا گیا جسے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے نظام کو کنٹرول کرنے کی کوشش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے مجوزہ ’ٹول سسٹم‘ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ملک کے لیے بھی اس طرح کا اقدام قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
ان کے مطابق یہ نظام بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ ہے اور اسے غیر قانونی اقدام سمجھا جائے گا۔